Read in English  
       
MBBS Scam

حیدرآباد ۔ حیدرآباد پولیس کمشنر وی سی سجنار نے ایم بی بی ایس داخلوں کے نام پر ہونے والے فراڈ سے والدین اور طلبہ کو خبردار کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر نیٹ یو جی امتحان دینے والے امیدواروں کو نشانہ بنانے والے ایجنٹوں سے محتاط رہنے کی ہدایت دی۔ کمشنر نے کہا کہ کم فیس میں میڈیکل سیٹ دلانے کے جھوٹے وعدے ایک خطرناک رجحان بن چکے ہیں۔

مزید برآں انہوں نے نشاندہی کی کہ دھوکہ باز عناصر طبی پیشے کی اہمیت اور طلب کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کم نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو سستے داموں مینجمنٹ کوٹہ کے ذریعے ایم بی بی ایس سیٹ دلانے کے دعوے اکثر جعلی ہوتے ہیں۔ اس لیے والدین کو ایسے دعوؤں پر یقین کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

غیر ملکی تعلیم کے نام پر دھوکہ | MBBS Scam

کمشنر نے ان ایجنٹوں سے بھی خبردار کیا جو فلپائن، کرغزستان، قازقستان، جارجیا، چین، آرمینیا اور کیریبین ممالک میں کم لاگت پر طبی تعلیم دلانے کا لالچ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں اکثر طلبہ اور والدین کو گمراہ کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مالی اور تعلیمی نقصان ہوتا ہے۔

اسی دوران کمشنر نے بتایا کہ حیدرآباد میں گزشتہ برسوں کے دوران کئی خاندان ایسے فراڈ نیٹ ورکس کا شکار ہو چکے ہیں۔ مزید یہ کہ متعدد طلبہ نے جعلی وعدوں پر بھروسہ کر کے اپنے قیمتی تعلیمی سال بھی ضائع کیے، جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔

تصدیق اور احتیاط کی ہدایت | MBBS Scam

انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی غیر ملکی میڈیکل کالج میں داخلہ لینے سے قبل اس کی نیشنل میڈیکل کمیشن سے منظوری ضرور چیک کریں۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ سرکاری ویب سائٹس کا استعمال کریں یا براہ راست اداروں سے رابطہ قائم کریں تاکہ کسی بھی دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب کمشنر نے سختی سے تاکید کی کہ کسی بھی درمیانی شخص کو نقد رقم نہ دی جائے۔ فیس صرف متعلقہ یونیورسٹی یا کالج کے سرکاری بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کوئی شخص ایم بی بی ایس داخلے کے نام پر رقم کا مطالبہ کرے یا مشکوک وعدے کرے تو فوری طور پر ڈائل 100 پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس اسٹیشن سے رجوع کریں۔ اس طرح کے اقدامات سے ہی ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہے۔