حیدرآباد: حیدرآباد ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ ایسیٹس پروٹیکشن ایجنسی (ہائیڈرا) نے پیر کے روز رنگا ریڈی ضلع کے نیک نام پور علاقے میں واقع 23.16 ایکڑ سرکاری زمین کو ناجائز قبضے سے واگزار کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ زمین ایک قیمتی رئیل اسٹیٹ زون میں واقع ہے، جس کی مجموعی مالیت 2,500 کروڑ روپئے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
مقامی افراد کی شکایات موصول ہونے کے بعد ایجنسی نے گنڈی پیٹ منڈل کے نیک نام پور گاؤں میں سروے نمبر 20 پر فیلڈ معائنہ شروع کیا۔ اس کارروائی کی نگرانی ہائیڈرا کے کمشنر اے وی رنگناتھ نے کی، جبکہ ریونیو اور بلدیاتی افسران نے بھی ٹیم کے ساتھ تعاون کیا۔
تحقیقات کے دوران ملکیت کی جانچ کی گئی، جس کے بعد زمین کو ریاستی حکومت کی ملکیت قرار دیا گیا۔ اس کے فوراً بعد ٹیم نے موقع پر قائم غیر قانونی شیڈز اور دیواروں کو مسمار کر دیا۔ بعد ازاں زمین کے گرد باڑ لگائی گئی اور نمایاں بورڈز نصب کیے گئے، جن پر اسے سرکاری زمین قرار دیا گیا۔
جعلی دستاویزات اور فراڈ کا پردہ فاش | Government Land
حکام کے مطابق ناجائز قابضین نے جعلی دستاویزات اور فرنٹ مین کے ذریعے اس قیمتی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ایک شخص نے 1975 میں زمین خریدنے کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہوئے جعلی ریکارڈ تیار کیے اور بعد ازاں عدالت سے لینڈ پاس بکس حاصل کرنے کی کوشش کی۔
ریونیو حکام نے مداخلت کرتے ہوئے تفصیلی سروے کیا اور رپورٹ میں واضح کیا کہ یہ زمین عوامی ملکیت ہے۔ بعد کے برسوں میں دیگر افراد کی جانب سے بھی ملکیت کے دعوے سامنے آئے، تاہم دستاویزات کے جعلی ہونے کی تصدیق کے بعد پولیس میں مقدمہ درج کرایا گیا، جس سے فراڈ کے کئی پہلو بے نقاب ہوئے۔
عوامی زمین کے تحفظ پر اطمینان | Government Land
ایجنسی کی بروقت کارروائی سے ناجائز قابضین کی تمام کوششیں ناکام بنا دی گئیں۔ مقامی رہائشیوں نے اس اقدام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عوامی زمین کے تحفظ کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واگزار شدہ اراضی کو گرین زون یا عوامی پارک کے طور پر ترقی دی جائے۔
علاقہ کے مکینوں نے کمشنر رنگناتھ اور ریاستی حکومت کی تعریف کی، جنہوں نے ہائیڈرا کو مؤثر اختیارات دے کر سرکاری اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں مستقبل میں ناجائز قبضوں کی حوصلہ شکنی کریں گی۔
