حیدرآباد: ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ گلوبل سمٹ مکمل طور پر ناکام رہا اور وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی نے کروڑوں روپئے خرچ کر کے بھی کوئی عملی نتیجہ پیش نہیں کیا۔ ان کے مطابق حکومت نے ایک ایسا وژن ڈاکیومنٹ تیار کیا جس میں نہ وژن ہے نہ مشن۔ انہوں نے کہا کہ “کیور، پیور، ریئر” جیسے نعروں سے بھی اس صورتحال کو چھپایا نہیں جا سکتا، کیونکہ یہ سب کوششیں ریاستی وسائل کو لوٹنے کے مترادف ہیں۔ ان کے بقول سمٹ میں زیادہ نمبروں کا شور تھا لیکن عوام کے لیے فائدہ نہ ہونے کے برابر رہا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سمٹ میں جاری کئی ایم او یوز کے پیچھے خفیہ معاہدے موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھاری بھرکم اعداد و شمار دکھا کر حقیقت کو چھپایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ کی دو برس کی بیرونی دوروں اور متعدد سمٹس کے باوجود کتنی سرمایہ کاریاں حقیقت میں زمین پر اتریں اور نوجوانوں کو کتنی ملازمتیں مل سکیں۔
سیاسی کشمکش اور شفافیت کے مطالبات | Summit Critique
ہریش راؤ نے حکومت کو چیلنج کیا کہ سرمایہ کاری اور روزگار کے اصل اعداد و شمار پر وائٹ پیپر جاری کیا جائے۔ ان کے مطابق سمٹ میں ٹونی بلیئر اور دُووری سُبّا راؤ کے بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ترقی کا اصل دور کے سی آر کے زمانے میں تھا، اور یہ تعریفیں موجودہ حکومت کے لیے واضح تنقید تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ریمارکس نے حکومت کے دعوؤں اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت شفافیت اختیار کرے اور عوام کو بتائے کہ دعووں میں کتنی سچائی ہے۔ ان کے مطابق ترقی کے نام پر محض اعداد و شمار پیش کرنا کافی نہیں، اصل ضرورت ٹھوس نتائج اور جواب دہی کی ہے۔
