Read in English
Doctors Transfer Protest

حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں سرکاری ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث جمعہ کو طبی خدمات متاثر ہوئیں، کیونکہ ریاستی حکومت نے تبادلوں کے رہنما اصولوں سے متعلق مطالبات پر کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا۔ تلنگانہ گورنمنٹ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے احتجاج کا آغاز کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکام نے تبادلوں سے متعلق ڈاکٹروں کے خدشات کو نظرانداز کیا ہے۔

ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ جی او نمبر 38 کی تمام شقوں پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے۔ احتجاج کے حصے کے طور پر ریاست بھر کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں نے اپنی معمول کی خدمات کا بائیکاٹ کیا۔

او پی خدمات معطل، مریضوں کو مشکلات | Doctors Transfer Protest

ہڑتال کے باعث عثمانیہ اسپتال، گاندھی اسپتال سمیت مختلف ضلعی اور علاقائی اسپتالوں میں خدمات متاثر ہوئیں۔ ڈاکٹروں نے او پی خدمات معطل کر دیں جس کے نتیجے میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

خصوصاً خواتین، بزرگ شہریوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ ہنگامی طبی خدمات معمول کے مطابق جاری رکھی گئی ہیں تاکہ ایمرجنسی مریض متاثر نہ ہوں۔

تبادلوں میں شفافیت کا مطالبہ | Doctors Transfer Protest

دریں اثنا احتجاجی ڈاکٹروں نے مختلف اسپتالوں کے احاطوں میں مظاہرے کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ تلنگانہ گورنمنٹ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نارہری اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر للو پرساد راتھوڑ نے تبادلوں کے عمل میں مکمل شفافیت پر زور دیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جی او نمبر 38 کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جائے۔ مزید برآں ڈاکٹروں نے تبادلوں کے دوران شریک حیات اور دیگر ترجیحی زمروں کو بھی مناسب اہمیت دینے کا مطالبہ کیا۔

ایسوسی ایشن نے موجودہ قواعد کے مطابق تنظیمی عہدیداروں کو استثنیٰ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ چنانچہ ڈاکٹروں نے حکومت سے جلد مذاکرات شروع کر کے مسئلے کا حل نکالنے کی اپیل کی۔

احتجاجی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی تو آئندہ دنوں میں تحریک کو مزید شدت دی جا سکتی ہے، جس سے صحت کی خدمات مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔