حیدرآباد: تلنگانہ میں کوئلہ ٹینڈرز سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ نے کہا ہے کہ اگر ریاستی حکومت باضابطہ درخواست کرے تو مرکزی حکومت ایس سی سی ایل اور نائیدی کوئلہ ٹینڈرز کی سی بی آئی جانچ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں شفافیت عوام کا بنیادی حق ہے۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کو حیدرآباد میں واقع بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پارٹی کے ریاستی عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ این رام چندر راؤ نے سابق بھارت راشٹرا سمیتی حکومت اور موجودہ کانگریس زیر قیادت انتظامیہ، دونوں کے دور میں جاری ٹینڈر عمل کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا۔
کروڑوں کے ٹینڈرز پر سوالات | Coal Tender
انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ کروڑوں روپئے مالیت کے ٹینڈرز کس بنیاد پر دیے گئے۔ ان کا سوال تھا کہ آیا ان ٹینڈرز سے فائدہ اٹھانے والوں کے حکمراں جماعتوں کے رہنماؤں سے روابط تھے یا نہیں۔ انہوں نے بی جے پی کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ بی آر ایس اور کانگریس، دونوں ادوار کی مب متعلق بے ضابطگیوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کریں۔
این رام چندر راؤ نے پارٹی کارکنوں سے یہ بھی کہا کہ وہ گاؤں اور محلوں کی سطح پر جا کر مرکزی حکومت کی فلاحی اسکیموں سے عوام کو آگاہ کریں۔ ان کے مطابق بی جے پی کی ذمہ داری ہے کہ وہ زمینی سطح پر عوام کو حقائق سے روشناس کرائے۔
ڈیوس دوروں پر وائٹ پیپر کا مطالبہ | Coal Tender
اجلاس کے دوران انہوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے غیر ملکی دوروں پر بھی سوال اٹھائے۔ این رام چندر راؤ نے مطالبہ کیا کہ ڈیوس کے دو دوروں کے دوران حاصل ہونے والی سرمایہ کاری پر ایک وائٹ پیپر جاری کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی غیر ملکی دوروں کی مخالفت نہیں کرتی، لیکن عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان دوروں سے کتنی سرمایہ کاری آئی اور کتنے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
بی جے پی صدر نے کہا کہ صرف دعووں سے بات نہیں بنے گی بلکہ ٹھوس اعداد و شمار کے ساتھ شفاف رپورٹ پیش کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق اس سے حکومت کی نیت اور کارکردگی دونوں واضح ہوں گی۔
ریاستی عہدیداروں کے اجلاس میں پارٹی کی مختلف کمیٹیوں اور ذیلی تنظیموں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ بلدیاتی انتخابات سے قبل آئندہ پروگراموں اور حکمت عملیوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
