حیدرآباد: ایک نہایت افسوسناک واقعہ میں پولیس کی بے احتیاطی اور رابطے کی کمی نے انسانی غفلت کی نئی مثال قائم کر دی۔ Osmania Hospitalکے قریب لاپتہ ہونے والی 75 سالہ خاتون تین دن بعد اسی اسپتال کے مردہ خانے میں مردہ حالت میں پائی گئی، جہاں وہ بے شناخت اور بغیر دعویٰ کے پڑی رہی۔
متوفیہ کی شناخت وینکٹا نرسمّا کے طور پر ہوئی جو ضلع نلگنڈہ کے اُتلا پلی گاؤں کی رہنے والی تھیں۔ وہ اپنے بڑے بیٹے کرشنا ریڈی کے ساتھ گردوں اور دل کے علاج کے لیے حیدرآباد آئی تھیں اور چھوٹے بیٹے بُچی ریڈی کے ساتھ عثمانیہ جنرل اسپتال میں قیام پذیر تھیں۔ 10 اگست کی صبح 7:45 بجے بُچی ریڈی ناشتہ لینے باہر گیا تو نرسمّا اسپتال سے باہر نکل گئیں اور گاؤں واپس جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔
صرف پانچ منٹ بعد جب بُچی ریڈی واپس آیا تو وہ لاپتہ تھیں۔ اس نے صبح 8 بجے ہی افضل گنج پولیس سے رجوع کیا مگر پولیس نے مبینہ طور پر شکایت درج کرنے اور سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے میں تاخیر کی۔ آٹھ گھنٹے بعد فوٹیج کا جائزہ لیا گیا، تب تک نرسمّا دور تک نکل چکی تھیں۔
اہل خانہ نے چھ روز تک پولیس کے ساتھ شہر بھر میں تلاش جاری رکھی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں انہیں کوٹھی اور دلسکھ نگر کے علاقوں میں چلتے ہوئے دیکھا گیا۔ تاہم 13 اگست کی رات 2 بجے کے قریب ایل بی نگر کراس روڈ پر ایک نامعلوم گاڑی نے انہیں ٹکر مار دی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئیں۔ پولیس نے لاش کو شناخت نہ ہونے کی بنیاد پر رجسٹر کر کے عثمانیہ اسپتال کے مردہ خانے منتقل کر دیا۔
اہل خانہ اس دوران اسپتال اور شہر بھر میں تلاش کرتے رہے، لیکن نرسمّا کی لاش وہیں اسپتال کے مردہ خانے میں پڑی تھی جہاں ان کا بیٹا زیرِ علاج تھا۔ افضل گنج اور ایل بی نگر پولیس کے درمیان رابطے کی کمی، جو مختلف کمشنریٹس کے تحت کام کرتے ہیں، شناخت میں تاخیر کا باعث بنی۔
16 اگست کو افضل گنج پولیس نے لاپتہ خاتون کی تصاویر دیگر اسٹیشنوں کو روانہ کیں، جس پر ایل بی نگر پولیس نے مردہ خانے میں موجود لاش سے تصویر کا موازنہ کیا۔ اہل خانہ کو بلایا گیا اور بُچی ریڈی اپنی ماں کی لاش دیکھ کر زار و قطار رو پڑا کہ وہ شہر بھر میں تلاش کرتا رہا جبکہ والدہ قریب ہی بے شناخت پڑی رہی۔
اس واقعہ پر عوامی غم و غصہ بڑھ گیا ہے اور پولیس کی غفلت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا کہ جب شکایت درج ہوئی تو فوری طور پر سی سی ٹی وی کا جائزہ کیوں نہیں لیا گیا اور لاپتہ افراد کی اطلاع دیگر حلقوں کو کیوں نہیں دی گئی، جو کہ معمول کا عمل ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے بر وقت کارروائی کی ہوتی تو شاید نرسمّا زندہ مل جاتیں یا کم از کم ان کی موت جلدی واضح ہو جاتی۔





















































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































