Read in English  
       
Paddy Transport

حیدرآباد ۔ تلنگانہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے ریاست بھر میں دھان کی خریداری مراکز سے گوداموں اور رائس ملوں تک اناج کی ہموار منتقلی یقینی بنانے کے لیے نقل و حمل کے انتظامات مزید تیز کر دیے ہیں۔ حکام نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ ٹرانسپورٹ نظام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دی جائے۔ مزید برآں ریاست میں دھان خریداری کے عمل میں تیزی آنے کے بعد مختلف محکموں کے درمیان رابطہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران نے فیلڈ اسٹاف کو لاریوں اور ٹریکٹرس کی مناسب دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ اسی دوران ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سیول سپلائز کے ساتھ مسلسل تال میل رکھنے پر بھی زور دیا گیا تاکہ گاڑیوں کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو۔ حکام کے مطابق خریداری مراکز کی ضروریات کے مطابق فوری طور پر گاڑیوں کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

دھان کی منتقلی پر مسلسل نگرانی | Paddy Transport

کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ دھان کی منتقلی میں شامل تمام گاڑیوں کے پاس مکمل اور درست دستاویزات موجود ہوں۔ ان دستاویزات میں رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، فٹنس سرٹیفکیٹ، پرمٹ، انشورنس، پولوشن سرٹیفکیٹ اور درست ڈرائیونگ لائسنس شامل ہیں۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ریاست بھر میں دھان خریداری مہم کے تیز ہونے کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ نے مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ مشترکہ نگرانی کا عمل بھی بڑھا دیا ہے۔ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ نقل و حمل سے متعلق مسائل کو فوری حل کیا جائے تاکہ کسانوں کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔ مزید یہ کہ تمام اضلاع میں مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

مربوط حکمت عملی سے رکاوٹیں روکنے کی کوشش | Paddy Transport

حکام کے مطابق دھان کی منتقلی کے دوران ممکنہ رکاوٹوں کو روکنے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خریداری سیزن کے دوران گاڑیوں کی مسلسل دستیابی اور بروقت روانگی کو یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ لہٰذا مختلف محکمے مشترکہ طور پر کام کرتے ہوئے دھان کی ترسیل کو بلا تعطل جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تلنگانہ میں دھان کی خریداری کے بڑھتے عمل کے پیش نظر محکمہ ٹرانسپورٹ نے واضح کیا کہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور اناج کی بروقت منتقلی کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔ حکام کو امید ہے کہ مربوط نگرانی اور فوری ردعمل کے ذریعے نقل و حمل کے نظام کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے گا۔