Read in English  
       
Women Bill Controversy

حیدرآباد ۔ خواتین ریزرویشن بل کی ناکامی پر سیاسی بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے، جہاں تلنگانہ جاگروتی کی صدر کے کویتا نے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مزید برآں، انہوں نے اس معاملے کو عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔

پس منظر کے طور پر، لوک سبھا میں بل کی شکست کے بعد مختلف سیاسی رہنماؤں کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم، کے کویتا نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے بی جے پی کے کردار پر سوالات اٹھائے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے یہ جانتے ہوئے بھی بل پیش کیا کہ اسے منظوری نہیں ملے گی۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے اسے حد بندی کے ساتھ جوڑ کر اپوزیشن کی مخالفت کو یقینی بنایا۔

حد بندی سے جوڑنے کا الزام | Women Bill Controversy

کے کویتا کے مطابق، حکومت کے پاس مطلوبہ تعداد نہیں تھی لیکن اس کے باوجود بل کو جلد بازی میں پیش کیا گیا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے بی جے پی پر خواتین کے جذبات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس پیش رفت نے خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے بی جے پی کے عزم پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ اسی طرح، انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی اس معاملے سے انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتی تھی۔

خواتین سے سیاسی ردعمل کی اپیل | Women Bill Controversy

کے کویتا نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کو سیاسی فریب کے طور پر پہچانیں اور اس کا جواب سیاسی طور پر دیں۔ مزید برآں، انہوں نے مغربی بنگال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے سیاسی زوال کا آغاز وہیں سے ہونا چاہیے۔

تلنگانہ جاگروتی صدر نے ووٹرز سے ممتا بنرجی کی حمایت کرنے کی بھی اپیل کی۔ آخر میں، انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی خواتین کو ان حالات کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے کیونکہ یہ واقعہ بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔