Read in English  
       
Fair Transfer Policy

حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں سرکاری ڈاکٹروں کی مجوزہ ہڑتال اس وقت واپس لے لی گئی جب ریاستی حکومت نے تبادلوں اور سروس شرائط سے متعلق ان کے مطالبات پر مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کرائی۔ تلنگانہ گورنمنٹ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے حکومت اور وزیر صحت دامودر راجنرسمہا کے ردعمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق وزیر صحت نے یقین دلایا کہ ڈاکٹروں کے مطالبات کا منصفانہ حل تلاش کرنے کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کرے گی۔ اسی لیے تنظیم نے احتجاجی پروگراموں کو واپس لینے کا فیصلہ کیا اور حکومت پر اپنے اعتماد کا اعادہ کیا۔

تبادلوں کے مطالبات پر اتفاق رائے | Fair Transfer Policy

تلنگانہ گورنمنٹ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر جی او نمبر 38 کے مطابق شفاف تبادلوں کا مطالبہ دہرایا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے ڈاکٹروں کو تبادلے کا موقع دیا جانا چاہیے جنہوں نے 4 سال کی سروس مکمل کر لی ہے۔

مزید برآں ایسوسی ایشن نے 3 سالہ ترجیحی زمرے اور زیرو اسپاؤس زمرے کے تحت اہل ڈاکٹروں کو بھی تبادلوں میں مناسب ترجیح دینے کی درخواست کی۔ تنظیم کے مطابق ان زمروں کے لیے واضح اور منصفانہ پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ تمام ملازمین کو یکساں مواقع حاصل ہوں۔

اس کے علاوہ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ تسلیم شدہ تنظیموں کے منتخب نمائندوں کو جی او نمبر 38 میں دی گئی سہولت کے مطابق تبادلوں سے استثنا فراہم کیا جائے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ ایسی شقوں پر مکمل عمل درآمد انتظامی شفافیت کو مزید مضبوط بنائے گا۔

طبی خدمات متاثر نہ ہونے کی یقین دہانی | Fair Transfer Policy

مذاکرات کے بعد تنظیمی رہنماؤں نے کہا کہ انہیں ریاستی حکومت اور وزیر صحت دامودر راجنرسمہا پر مکمل اعتماد ہے۔ لہٰذا مجوزہ احتجاجی سرگرمیوں کو واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ عوامی خدمات بلا تعطل جاری رہ سکیں۔

ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ سرکاری اسپتالوں میں او پی، آئی پی اور ایمرجنسی خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ اسی دوران مریضوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور تمام طبی سہولیات دستیاب رہیں گی۔

تنظیم کے مطابق ڈاکٹر سرجریوں اور دیگر طبی خدمات کی انجام دہی بھی حسب معمول جاری رکھیں گے۔ مزید یہ کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ڈاکٹروں کی اولین ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ایسوسی ایشن نے مریضوں کو یقین دلایا کہ تمام سرکاری اسپتالوں میں خدمات کا تسلسل برقرار رہے گا۔ نتیجتاً حکومت اور ڈاکٹروں کے درمیان بات چیت کے ذریعے پیدا ہونے والی مفاہمت نے ایک ممکنہ ہڑتال کو روک دیا ہے اور صحت کے شعبے میں استحکام کی راہ ہموار کی ہے۔