حیدرآباد: بچوپلی میں پیش آئے دو الگ واقعات نے پیر کی شام علاقے کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا۔ دونوں واقعات انٹرمیڈیٹ طلبہ سے متعلق تھے، جو علاقے کے مختلف جونیئر کالجوں میں زیرِ تعلیم تھے۔ یہ صورتحال مقامی رہائشیوں کے لئے غیر معمولی تشویش کا باعث بنی۔
پہلا واقعہ 16 سالہ ورشا سے متعلق تھا، جو محبوب نگر کے مکتھل سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ سری چیتنیہ ریزیڈنشیل جونیئر کالج، ویشنوی کیمپس میں پہلی سال کی طالبہ تھی۔ شام تقریباً 5 بجے وہ مختصر وقفے کے دوران اپنے کمرے میں واپس آئی۔ اس نے اندر سے دروازہ بند کیا اور خودکشی کر لی۔ اس کے دیر تک واپس نہ آنے پر ساتھی لڑکیاں اور اسٹاف فکر مند ہوگئے۔
جب مسلسل آوازیں دینے پر بھی جواب نہ دیا تو دروازہ توڑا گیا۔ اندر وہ چھت کے پنکھے سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔ اسٹاف اسے فوری اسپتال لے گیا، مگر ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی جان کی بازی ہار چکی تھی۔ اس واقعے نے پورے کیمپس میں گہرا صدمہ پھیلا دیا۔
دو الگ سانحات | Student Tragedy
دوسرے واقعے میں 18 سالہ منجوناتھ شامل تھا، جو نظام پیٹ کے این ٹی آر نگر کالونی سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ پراگتی نگر میں واقع پراگتی جونیئر کالج میں سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وہ اپنی ہم جماعت لڑکی کے ساتھ تعلق میں تھا۔ بتایا گیا کہ لڑکی کی والدہ اور ایک اور خاتون اس کے گھر آئیں اور اسے اس تعلق کے بارے میں وارننگ دی۔
پیر کی شام، جب گھر میں کوئی موجود نہ تھا، منجوناتھ نے چھت کے پنکھے سے لٹک کر اپنی جان دے دی۔ اس کی موت نے علاقے میں غم کی شدت بڑھا دی کیونکہ دونوں واقعات میں کم عمر طلبہ شامل تھے۔
بچوپلی میں سوگواری کی فضا | Student Tragedy
رہائشیوں نے کہا کہ ان واقعات نے پورے علاقے کو غمزدہ کر دیا ہے۔ دونوں خاندان شدید صدمے میں ہیں اور مقامی افراد میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں واقعات کی مکمل وجوہات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ بچوپلی پولیس نے الگ الگ مقدمات درج کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ واقعات اس بات کی یاددہانی ہیں کہ نوجوان ذہنوں پر دباؤ، تنہائی اور جذباتی مشکلات سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں بروقت مدد اور گھر-اسکول سطح پر بہتر نگرانی ناگزیر ہے۔
