حیدرآباد: تلنگانہ میڈیا اکیڈمی نے ’ادیرا ڈیٹا لیڈز ‘کے تعاون سے بدھ کے روز “مصنوعی ذہانت: آلات اور تکنیک” کے عنوان سے ایک AI Workshopکا انعقاد کیا۔ یہ پروگرام نامپلی میں واقع اکیڈمی کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا جس میں تلگو، انگریزی اور اردو میڈیا کے 100 سے زائد صحافیوں نے شرکت کی۔
صحافت میں بدلتے ہوئے رجحانات
اپنے افتتاحی خطاب میں تلنگانہ میڈیا اکیڈمی کے صدر کے سرینواس ریڈی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت صحافت اور نیوز روم کے طریقہ کار کو تیزی سے بدل رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صحافیوں کو بدلتے میڈیا ماحول میں اپنے آپ کو متعلقہ رکھنے کے لیے اے آئی کی مہارتیں حاصل کرنی ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کی بدولت ڈیجیٹل اور سوشیل میڈیا رپورٹنگ میں تیزی آ سکتی ہے اور قارئین و ناظرین تک فوری خبر پہنچائی جا سکتی ہے۔ ریڈی نے اکیڈمی کی جانب سے صحافیوں کی مہارتوں کو بہتر بنانے کے عزم کو بھی دہرایا۔
پہلی باقاعدہ اے آئی ٹریننگ
سینئر صحافی اور اے آئی ٹرینر اڈومولا سدھاکر ریڈی نے اس AI Workshopکی قیادت کی۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں پہلی مرتبہ صحافیوں کے لیے باقاعدہ اے آئی ٹریننگ متعارف کرائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق صحافت اب ایجنٹک اے آئی کے دور میں داخل ہو چکی ہے، اس لیے اس کے استعمال اور خطرات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے شرکاء کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی سیکھنے کی صلاحیت کو مسلسل جاری رکھیں اور روزانہ کی بنیاد پر اپنی معلومات کو اپ ڈیٹ کریں۔

مواقع اور خدشات
اڈومولا ریڈی نے اے آئی کے مواقع اور خطرات دونوں پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی صحافت کو مضبوط بنا سکتی ہے لیکن اس کا غلط استعمال کر کے افواہیں پھیلائی جا سکتی ہیں یا عوامی رائے کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کے ذریعے تیار کردہ مواد کو ذات پات، مذہب، صنف یا طبقاتی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، اس لیے صحافیوں پر اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کے درست استعمال کو یقینی بنائیں۔
عملی مظاہرے اور شرکت
ورکشاپ کے دوران چیٹ جی پی ٹی، پرپلیکسٹی، نوٹ بُک ایل ایم، گوگل جیمینی، مڈجرنی، سورا اور وی او 3 جیسے آلات کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ ریڈی نے پریزنٹیشنز اور کیس اسٹڈیز کے ذریعے وضاحت کی کہ کس طرح ان ٹولز کو نیوز روم کے کام میں مؤثر طریقے سے شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ ناقص ڈیٹا یا غیر مؤثر پرامپٹس کی وجہ سے نتائج میں تعصب یا گمراہ کن مواد شامل ہو سکتا ہے۔
ورکشاپ میں تلنگانہ میڈیا اکیڈمی کے سکریٹری ناگول پلی وینکٹیشورا راؤ اور دیگر عہدیداران نے بھی شرکت کی۔
نتیجہ
یہ ورکشاپ صحافیوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے امکانات اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال پر ایک اہم تربیتی اقدام ثابت ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے پروگرام مستقبل میں صحافت کے معیار کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔


































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































