حیدرآباد ۔ تلنگانہ رکشنا سینا کی صدر کویتا نے تلنگانہ سے متعلق مختلف مسائل پر مرکز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مرکزی وزیر بنڈی سنجے کے خاندان سے متعلق الزامات کے معاملہ پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تلنگانہ دورہ کے دوران مالی نظم و ضبط پر بات کی جبکہ آندھرا پردیش کو مالی تعاون فراہم کیا گیا۔ اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
کویتا نے کہا کہ بنڈی سنجے کو وزیر اعظم کے دورہ کے دوران اسٹیج پر موجود نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ ان کے خاندان کے افراد پر الزامات عائد ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس پروگرام میں شرکت سے عوام کو غلط پیغام گیا۔ مزید برآں انہوں نے تلنگانہ پولیس سے مطالبہ کیا کہ بنڈی سنجے کے فرزند کو ملک چھوڑنے سے روکنے کے لیے لک آؤٹ نوٹس جاری کیے جائیں۔
بی سی ریزرویشن پر مطالبات | Telangana Issues
کویتا نے کہا کہ اگر بنڈی سنجے کے فرزند کے خلاف الزامات ثابت ہوجائیں تو مرکزی وزیر کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اسی دوران انہوں نے سوشل میڈیا پر متاثرہ لڑکی سے متعلق ویڈیوز شیئر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پولیس سے ایسے اکاؤنٹس فوری بلاک کرنے کی اپیل بھی کی۔
تلنگانہ رکشنا سینا صدر نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تلنگانہ دورہ کے دوران بی سی ریزرویشن کے مسئلہ پر کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے پالامورو-رنگاریڈی پروجیکٹ کو قومی درجہ دینے کا مطالبہ کیا اور وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی سے کہا کہ وہ اس معاملہ پر مرکز کو خط لکھیں۔
آبی وسائل اور مردم شماری کا معاملہ | Telangana Issues
کویتا نے کہا کہ آندھرا پردیش اپنے آبی وسائل کا مؤثر استعمال کررہا ہے جبکہ تلنگانہ اس معاملہ میں پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آئی تو واٹر کمیشن قائم کیا جائے گا تاکہ ریاستی آبی مسائل کا جامع حل نکالا جاسکے۔
انہوں نے ذات پر مبنی مردم شماری میں او بی سی کالم شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ مزید یہ کہ پارٹی ملک بھر میں 50 فیصد بی سی ریزرویشن کے حق میں مہم چلائے گی۔ اسی دوران انہوں نے پولاورم اور بناکاچرلہ پروجیکٹس کے خلاف رٹ پٹیشن داخل کرنے کا اعلان کیا۔
کویتا نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ نیٹ جیسے قومی امتحانات میں پیپر لیک واقعات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ ان کے مطابق تعلیمی نظام میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
