حیدرآباد: تلنگانہ قانون ساز کونسل میں پیر کے روز جذباتی منظر دیکھنے میں آیا جب ایم ایل سی اور تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا ،اپنے استعفے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔ ایوان سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں عوامی مسائل اٹھانے کی ان کی کوششوں کو بار بار روکا گیا۔
کویتا نے الزام عائد کیا کہ جب بھی وہ سوال اٹھاتیں، سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کے قریبی سمجھے جانے والے بعض افراد انہیں نشانہ بناتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی سے وابستہ چینلز اور اخبارات نے کبھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بی آر ایس میں شامل ہونے سے پہلے تلنگانہ جاگروتی قائم کی تھی اور تلنگانہ تحریک کے دوران عوامی زندگی میں قدم رکھا۔ ان کے مطابق پارٹی میں شمولیت کے آغاز سے ہی دباؤ کا سامنا رہا اور سرکاری کاموں میں مبینہ بدعنوانی پر سوال اٹھانے کے باوجود انہیں حمایت نہیں ملی۔
عوامی مسائل پر آواز، مگر کوئی سنوائی نہیں | Council Resignation
کویتا نے کہا کہ انہوں نے منہدم ہوتی کلکٹریٹس اور امر دیپم تعمیرات میں مبینہ بے ضابطگیوں جیسے مسائل ایوان کے سامنے رکھے۔ تاہم ان کے مطابق متعلقہ حکام نے ان خدشات کو نظرانداز کیا اور عوامی مسائل پر کوئی سنجیدہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی وہ عوام کے مسائل پر بات کرتیں، تو ایوان اور حکومت کی جانب سے خاموشی اختیار کی جاتی رہی، جس نے انہیں مایوس کیا۔
چیئرمین کا مشورہ، کویتا کا انکار | Council Resignation
کویتا کی تقریر کے بعد قانون ساز کونسل کے چیئرمین گٹّا سکھندر ریڈی نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ استعفے پر دوبارہ غور کریں۔ چیئرمین کا کہنا تھا کہ جذباتی کیفیت میں کیے گئے فیصلے بعض اوقات درست نہیں ہوتے۔
تاہم کویتا نے اس مشورے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ چار ماہ قبل ہی اپنا استعفیٰ دے چکی ہیں۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ اب ان کا بی آر ایس سے کوئی تعلق نہیں رہا اور وہ پارٹی کی جانب سے دیا گیا ایم ایل سی عہدہ نہیں چاہتیں۔ آخر میں انہوں نے چیئرمین سے اپیل کی کہ ان کا استعفیٰ فوری طور پر قبول کیا جائے۔
