حیدرآباد: وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے منگل کے روز نئی دہلی میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے ملاقات کی اور تلنگانہ کے 30 ہزار کروڑ روپئے کے ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ ریزیڈنشیل اسکولس پروگرام کے لیے تعاون طلب کیا۔ یہ منصوبہ معیاری تعلیم تک رسائی کو وسیع پیمانے پر بہتر بنانے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ریاست بھر میں 105 رہائشی تعلیمی کیمپس قائم کیے جانے کا منصوبہ ہے، جہاں جماعت پانچویں سے بارہویں تک جدید سہولتوں کے ساتھ تعلیم فراہم کی جائے گی۔ ان اداروں سے پسماندہ طبقات، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور اقلیتی برادریوں کے 2.7 لاکھ سے زائد طلبہ کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
105 کیمپس اور جدید سہولتیں | Education Reform
ریونت ریڈی نے وضاحت کی کہ ہر کیمپس میں 2,560 طلبہ کے لیے گنجائش رکھی گئی ہے۔ ان تعلیمی مراکز میں جدید لیبارٹریز، لائبریریاں اور اسپورٹس اسٹیڈیمس شامل ہوں گے، تاکہ ہمہ جہت تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس بڑے منصوبے کے تحت دیگر تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہے، جس سے بالواسطہ طور پر مزید کئی لاکھ طلبہ مستفید ہوں گے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدام ریاست میں مساوی تعلیمی مواقع پیدا کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
فنڈنگ ماڈل پر تجاویز | Education Reform
وزیر اعلیٰ نے منصوبے کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسپیشل پرپز کمپنی کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے اس ماڈل کے تحت حاصل کیے جانے والے قرضوں کو ایف آر بی ایم حدود سے مستثنیٰ قرار دینے کی بھی درخواست کی، تاکہ منصوبے پر عملدرآمد میں رکاوٹ نہ آئے۔
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ریاست کے ویژن کی ستائش کی اور اس ماڈل کو قابلِ تعریف قرار دیا۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت سے کہا کہ اسپیشل پرپز کمپنی کے ڈھانچے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ ان کا جائزہ لیا جا سکے۔
Hon’ble Chief Minister Shri @revanth_anumula met Union Finance Minister Smt. @nsitharaman in Delhi and sought her support for #Telangana’s education initiatives. He apprised her of efforts to provide quality education to children from BC, SC, ST, and minority communities through… pic.twitter.com/RkZqD8Gm8H
— Telangana CMO (@TelanganaCMO) December 16, 2025
اس ملاقات میں ارکانِ پارلیمنٹ اے کے یادو، ڈاکٹر ملو روی، سریش شیٹکار اور کرن کمار چمالہ بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ موجود تھے۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ تلنگانہ رائزنگ 2047 حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے اور ریاست کی تعلیمی اصلاحات کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
