حیدرآباد: آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن لمیٹڈ نے آندھرا پردیش کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کوناسیما ضلع میں اپنے ایک کنویں میں گیس لیک کے باعث آگ لگنے کے بعد بین الاقوامی ماہرین سے رابطہ شروع کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ واقعہ پیر کی دوپہر پیش آیا، تاہم صورتحال اب قابو میں ہے۔
او این جی سی کے مطابق موری-5 کنویں میں پیداوار بڑھانے کے کام کے دوران آگ بھڑک اٹھی۔ اس وقت کنویں پر پیداوار کا کام ایک نجی کنٹریکٹر کے ذریعے کیا جا رہا تھا، جب گیس پائپ لائن میں اچانک لیک ہونے سے آگ لگ گئی۔
کمپنی نے پیر کی رات جاری بیان میں واضح کیا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی شخص زخمی ہوا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ایک بڑا حادثہ ہو سکتا تھا، تاہم فوری اقدامات سے صورتحال کو سنبھال لیا گیا۔
متاثرہ علاقے کو محفوظ بنایا گیا | ONGC Fire
او این جی سی نے بتایا کہ کنویں کے اطراف تقریباً 500 سے 600 میٹر کے دائرے میں کوئی انسانی آبادی موجود نہیں ہے۔ اسی لیے احتیاطی طور پر متاثرہ مقام کو فوری طور پر محفوظ بنا کر گھیرے میں لے لیا گیا۔
کمپنی کے مطابق آگ کے بعد کنویں کے مقام پر کولنگ آپریشن شروع کر دیا گیا تاکہ حالات کو مستحکم رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی اور علاقائی سطح پر کرائسز مینجمنٹ ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔
کنویں کو بند کرنے کی تیاری، بین الاقوامی ماہرین سے رابطہ | ONGC Fire
او این جی سی نے کہا کہ کنویں کو مکمل طور پر قابو میں لانے کے لیے ویل کنٹرول آپریشنز کی تیاری جاری ہے۔ ضرورت پڑنے پر کنویں کو کیپ کرنے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے تاکہ گیس کے اخراج کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔
اس کے علاوہ کمپنی نے بین الاقوامی ویل کنٹرول ماہرین سے بھی رابطہ شروع کر دیا ہے۔ منصوبہ بندی کے تحت جدید ویل کنٹرول اور کیسنگ کٹنگ جیسے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ تفصیلی سائٹ اسیسمنٹ کے بعد کیا جائے گا۔
او این جی سی کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام ضروری حفاظتی اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق کمپنی کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
