Read in English  
       
Drug Control

حیدرآباد: پولیس کمشنر وی سی سجنار نے کہا کہ شہر میں منشیات کے خلاف کارروائی کو مضبوط بنانے کے لیے جدید نظام اپنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات ٹی جی ایس سی سی سی، بنجارہ ہلز میں آئی بی، ڈی آر آئی، این سی بی، ایکسائز، کاؤنٹر انٹلیجنس، ایگل یونٹ اور ایف آر آر او کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں کہی۔ سجنار کے مطابق منشیات کے نیٹ ورک بڑھتی ہوئی چیلنج بن چکے ہیں، اس لیے تمام ایجنسیوں کو فوری اور مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ انٹیلی جنس شیئرنگ منظم تقسیم کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب منشیات فروشوں اور عادی مجرموں کی نگرانی اسی شدت سے کی جا رہی ہے جس طرح شرپسند عناصر پر رکھی جاتی ہے۔ بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث نفاذِ قانون کے اداروں کو مستقل چوکس رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق فعال سپلائی چینلز کو روکنے کے لیے فیلڈ کارروائی کا ہم آہنگ ہونا نہایت اہم ہے۔

آپریشنل صلاحیت میں اضافہ اور نئی ٹیموں کی شمولیت | Drug Control

سجنار نے کہا کہ شہر میں نارکوٹکس انفورسمنٹ وِنگ، ایچ نیو، کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ سپلائی لائنوں کو زیادہ مؤثر انداز میں توڑا جا سکے۔ اس سلسلے میں چار سے پانچ نئی ٹیمیں بھی شامل کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کا خاتمہ ایک طویل مدتی جدوجہد ہے، اس لیے تمام اداروں کو نیٹ ورک کے ہر حصے پر مستقل دباؤ برقرار رکھنا ہوگا۔

اجلاس میں جاری آپریشنز کا جائزہ لیا گیا اور ان نکات کی نشاندہی ہوئی جہاں تیز تر رابطہ کاری سے بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے مجموعی کارروائی مزید مؤثر ہو گی۔ اداروں کے مطابق تیزی سے بدلتے حالات میں مربوط حکمت عملی ہی بہتر نتائج کی ضمانت ہے۔

مشترکہ جائزہ اور مسلسل نگرانی کے اقدامات | Drug Control

سجنار نے بتایا کہ اب ہر ماہ تمام متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ مشترکہ جائزہ اجلاس ہوگا۔ ان اجلاسوں میں کیسوں کی پیش رفت، رابطہ کاری کے مسائل اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف رفتار برقرار رکھیں گے بلکہ مجموعی نفاذ کو بھی مضبوط کریں گے۔

پولیس حکام کے مطابق نئے نظام کے تحت نگرانی، فیلڈ کارروائی اور معلومات کے تبادلے کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس پر مبنی نگرانی پہلے ہی بڑھا دی گئی ہے۔ انتظامیہ کو امید ہے کہ مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے منشیات کے نیٹ ورک کو نمایاں حد تک کمزور کیا جا سکے گا۔