Read in English  
       
Phone Tapping Probe

حیدرآباد: تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ نے فون ٹیپنگ جانچ کو سیاسی انتقام قرار دینے کے بی آر ایس کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ جانچ آئینی دائرے میں، بغیر کسی جانبداری کے آگے بڑھ رہی ہے۔

وہ جمعہ کے روز اسمبلی میں کانگریس لیجسلیٹو پارٹی کے دفتر میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس حکومت کا مقصد بدلہ لینا ہوتا تو اقتدار سنبھالتے ہی کارروائی کی جاتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ قانون کا راستہ ہی واحد درست راستہ ہے۔

جانچ کا دفاع، بی آر ایس پر جوابی حملہ | Phone Tapping Probe

مہیش کمار گوڑ نے بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے ذاتی نشانہ بنائے جانے کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ الزام تراشی کے بجائے سنجیدگی سے حقائق کا سامنا کرنا چاہیے۔

انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کے خاندان پر منظم بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ آج بی آر ایس علی بابا اور چالیس چوروں کی مانند نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی نے اقتدار کے دوران ریاستی نظام کا غلط استعمال کیا۔

مہیش کمار گوڑ نے سوال اٹھایا کہ جب کے ٹی راما راؤ کی بہن کے کویتا خود یہ اعتراف کر چکی ہیں کہ ان کا فون ٹیپ کیا گیا تھا تو پھر مظلومیت کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فون ٹیپنگ کوئی معمولی معاملہ نہیں بلکہ ایک سنگین آئینی خلاف ورزی ہے۔

فون ٹیپنگ کی سنگینی اور سیاسی تنقید | Phone Tapping Probe

ٹی پی سی سی صدر نے انکشاف کیا کہ ماضی میں ان کا اپنا فون بھی نکسلی روابط کے شبہے میں ٹیپ کیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ فلمی ستاروں کے فون ٹیپ کرنے کا آخر کیا جواز ہو سکتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ نگرانی کا بے دریغ غلط استعمال ہوا۔

انہوں نے مرکزی وزیر بنڈی سنجے پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ وہ اس معاملے میں بی آر ایس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ کالیشورم منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے باوجود سابق وزیر اعلیٰ کے خاندان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی۔

مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ فون ٹیپنگ جانچ کو کمزور کرنے کی ہر کوشش دراصل سچ کو دبانے کی کوشش ہے، لیکن کانگریس حکومت قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھے گی۔