Tulasi Reddy

حیدرآباد ۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے کارگزار صدر کے تارک راما راو (کے ٹی آر) نے حیدرآباد کے باؤرام پیٹ سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما تُلسی ریڈی پالپونوری کو دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے پر تہنیت پیش کی اور ان کی شاندار کامیابی پر اعزاز سے نوازا۔ اس موقع پر کے ٹی راما راو نے اس کارنامے کو نہ صرف تُلسی ریڈی کی ذاتی کامیابی قرار دیا بلکہ اسے حیدرآباد اور ریاست کے لیے بھی باعث فخر بتایا۔

کے ٹی راما راو نے تُلسی ریڈی کے عزم، محنت اور استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سب سے بلند چوٹی تک پہنچنا معمولی بات نہیں بلکہ اس کے لیے غیر معمولی حوصلہ، سخت تربیت اور مسلسل جدوجہد درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق تُلسی ریڈی نے اپنی کامیابی سے نوجوانوں کے لیے ایک مثبت مثال قائم کی ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ واضح ہدف اور مضبوط ارادے کے ساتھ بڑی منزلیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

تُلسی ریڈی پالپونوری نے ماؤنٹ ایورسٹ کی دشوار گزار مہم مکمل کر کے نمایاں شناخت حاصل کی۔ اس مہم کے دوران جسمانی برداشت، ذہنی مضبوطی، طویل تیاری اور تکنیکی مہارت بنیادی تقاضے تھے، جبکہ بلند پہاڑی راستوں، شدید موسم اور محدود سہولتوں کے باوجود چوٹی تک پہنچنا ایک بڑا امتحان سمجھا جاتا ہے۔

بلند حوصلے کی پذیرائی | Tulasi Reddy

تقریبِ تہنیت کے دوران کے ٹی راما راو نے تُلسی ریڈی کے اس کارنامے کو ہندوستانی کوہ پیماؤں کی کامیاب روایات میں ایک اہم اضافہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نوجوان جو اپنی صلاحیتوں سے عالمی سطح پر شناخت بناتے ہیں، وہ اپنے شہر اور سماج دونوں کا نام روشن کرتے ہیں، اس لیے ان کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔

انہوں نے تُلسی ریڈی کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ آنے والے برسوں میں مزید بڑے سنگ میل عبور کریں گے۔ مزید یہ کہ انہوں نے اس کامیابی کو نئی نسل کے لیے تحریک کا ذریعہ قرار دیا، تاکہ نوجوان کھیل، مہم جوئی اور مشکل میدانوں میں آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کریں۔

مہم جوئی کے جذبے کا اعتراف | Tulasi Reddy

یہ تقریب اس پہلو کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ مہماتی کھیلوں اور کوہ پیمائی جیسے شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو سماجی اور سرکاری سطح پر سراہا جانا چاہیے۔ تاہم ایسے کارنامے صرف انفرادی کامیابی تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ اپنے علاقے، شہر اور ریاست کے لیے بھی مثبت شناخت کا ذریعہ بنتے ہیں۔

تُلسی ریڈی کی ماؤنٹ ایورسٹ مہم کی کامیابی پر عوامی نمائندوں اور خیر خواہوں کی جانب سے بھی ستائش سامنے آئی۔ اسی دوران اس کامیابی نے ایک بار پھر یہ احساس اجاگر کیا کہ اگر باصلاحیت نوجوانوں کو مناسب حوصلہ افزائی اور مواقع ملیں تو وہ عالمی سطح پر اپنی موجودگی منوا سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر تُلسی ریڈی پالپونوری کی یہ کامیابی حیدرآباد کے لیے ایک اہم لمحہ سمجھی جا رہی ہے۔ چنانچہ کے ٹی راما راو کی جانب سے ان کی پذیرائی نے نہ صرف ایک کامیاب کوہ پیما کی حوصلہ افزائی کی بلکہ اس پیغام کو بھی تقویت دی کہ غیر معمولی کارنامے انجام دینے والوں کو بھرپور سماجی اعتراف ملنا چاہیے۔