Read in English  
       
Welfare Dispute

حیدرآباد ۔ تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کے کویتا نے الزام عائد کیا ہے کہ خواتین کی مالی خودمختاری کیلئے قائم استری ندھی ادارہ بے ضابطگیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ اپنے اصل مقصد سے دور ہوتا جا رہا ہے جبکہ انتظامی سطح پر شفافیت کا فقدان بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

کے کویتا نے دعویٰ کیا کہ ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر تقریباً 14 سال قبل ریٹائر ہونے کے باوجود اب بھی تمام امور پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ متعلقہ عہدیدار مختلف بے ضابطگیوں کے پیچھے سرگرم ہیں۔

تقرریوں پر سیاسی تنازع | Welfare Dispute

کے کویتا کے مطابق منیجنگ ڈائریکٹر غیر سرکاری ذرائع کے ذریعے ایکس آفیشیو چیئرمین کا عہدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 16 مئی کو منعقد ہونے والے ملازمین کے اجلاس میں اس تقرری کو حتمی شکل دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ متعلقہ عہدیدار 23 مئی کو اپنی مدت ختم ہونے سے قبل ادارے پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے ریاستی حکومت پر انتظامی معاملات میں شفافیت برقرار نہ رکھنے کا بھی الزام لگایا۔

کانگریس حکومت سے کارروائی کا مطالبہ | Welfare Dispute

کے کویتا نے کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بے روزگار نوجوانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب اہم عہدوں پر غیر شفاف تقرریوں کی اجازت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے وزیر سیتکا سے مطالبہ کیا کہ وہ استری ندھی سے متعلق الزامات پر وضاحت پیش کریں۔ علاوہ ازیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منیجنگ ڈائریکٹر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تقرری کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے۔

کے کویتا نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ تقرریوں اور انتظامی معاملات میں شفافیت برقرار رکھنے کیلئے واضح ہدایات جاری کریں تاکہ اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رہ سکے۔