Read in English  
       
Fake Number Plate Case

حیدرآباد ۔ حیدرآباد ٹریفک پولیس نے جعلی نمبر پلیٹ کے ایک کیس کو بے نقاب کرتے ہوئے چوری شدہ موٹر سائیکل برآمد کر لی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب رنگا ریڈی ضلع کے چنتھل علاقے کے رہائشی ڈی ستیہ نارائنا نے اپنی گاڑی کے رجسٹریشن نمبر کے غلط استعمال کی شکایت درج کرائی۔ مزید برآں، پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا۔

پس منظر کے طور پر، شکایت کنندہ نے بتایا کہ اس کا رجسٹریشن نمبر اے پی 28 سی جے 8911 ایک دوسری گاڑی پر غیر قانونی طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ تاہم، یہ نمبر اصل میں ایک پیشن پرو موٹر سائیکل سے متعلق تھا۔ مزید یہ کہ پولیس نے تفتیش کے دوران ملّے پلی کے رہائشی لال محمد کو اس جعلی نمبر پلیٹ کے استعمال میں ملوث پایا۔

مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مذکورہ گاڑی دراصل چوری شدہ تھی اور اس کی اصل ملکیت رامنتاپور کے ایشور پرساد چورسیا کے نام پر تھی۔ لہٰذا، یہ کیس صرف نمبر پلیٹ کے غلط استعمال تک محدود نہیں رہا بلکہ چوری کی بڑی واردات سے بھی جڑا ہوا نکلا۔

تحقیقات اور برآمدگی کی تفصیلات | Fake Number Plate Case

پولیس کے مطابق گاڑی کا اصل رجسٹریشن نمبر اے پی 29 اے ایم 8979 تھا، جو 4 دسمبر 2023 کو مشیرآباد پولیس اسٹیشن میں درج کیس نمبر 473/2023 کے تحت چوری کی اطلاع دی گئی تھی۔ مزید برآں، ملزم نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ اس نے 2024 میں ایک نامعلوم شخص سے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے یہ گاڑی خریدی تھی۔

دریں اثنا، ٹریفک پولیس نے برآمد شدہ موٹر سائیکل کو مزید کارروائی کے لیے مشیرآباد پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا ہے۔ اس طرح کیس کی مزید تفتیش جاری ہے تاکہ مکمل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

پولیس کی ہدایات اور انتباہ | Fake Number Plate Case

حیدرآباد ٹریفک پولیس نے خبردار کیا ہے کہ جعلی یا تبدیل شدہ نمبر پلیٹ کا استعمال بھارتیہ نیایا سنہتا اور موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت سنگین جرم ہے۔ مزید برآں، ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے سی سی ٹی وی اور اے این پی آر کیمروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ گاڑی خریدتے وقت رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، مالک کی شناخت، انجن نمبر اور چیسیس نمبر کی مکمل جانچ کریں۔ لہٰذا، احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس طرح کے فراڈ سے بچا جا سکتا ہے۔

آخر میں، پولیس نے کہا کہ ایسے معاملات کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی تاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔