Read in English  
       
Ponnam Prabhakar Appeal

حیدرآباد ۔ حیدرآباد میں جاری آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے دوران وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے عملے سے اپیل کی ہے کہ وہ ہڑتال ختم کر کے دوبارہ ڈیوٹی سنبھالیں تاکہ عوامی خدمات متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کسی مسئلے کا حل نہیں اور ملازمین و ان کے اہل خانہ کو ادارے کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔ مزید برآں انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مسائل کے جائزے کے لیے 4 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی پہلے ہی تشکیل دے دی ہے۔

پس منظر کے طور پر یہ ہڑتال ریاست کے ٹرانسپورٹ نظام پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں۔ اسی دوران عوامی دباؤ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے کہا کہ کمیٹی 4 ہفتوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مدت کا مطلب کارروائی میں تاخیر نہیں ہے بلکہ معاملات کو منظم انداز میں حل کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ حکومت فوری فیصلوں کے لیے تیار ہے۔

مطالبات کی منظوری اور پیش رفت | Ponnam Prabhakar Appeal

پونم پربھاکر نے کہا کہ حکومت ملازمین کے 32 میں سے 29 مطالبات تسلیم کر چکی ہے۔ ان کے مطابق ان مسائل کو فوری طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم آر ٹی سی کے انضمام اور یونین کی شناخت جیسے معاملات تکنیکی نوعیت کے ہیں اور ان پر تفصیلی بات چیت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملات وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے ساتھ اٹھائے جائیں گے تاکہ جامع حل نکالا جا سکے۔ مزید برآں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت سنجیدگی سے تمام مسائل کا جائزہ لے رہی ہے۔

وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ حکومت ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہیں ادا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ 2017 کے زیر التوا پی آر سی اور ڈی اے واجبات بھی ادا کیے جا چکے ہیں۔ مزید یہ کہ 2013 کے بانڈز نمٹائے گئے اور پی ایف واجبات کو 1205 کروڑ سے کم کر کے 600 کروڑ کر دیا گیا۔

مالی اقدامات اور عوامی اثرات | Ponnam Prabhakar Appeal

انہوں نے کہا کہ سی سی ایس واجبات بھی 690 کروڑ سے کم ہو کر 300 کروڑ رہ گئے ہیں۔ حکومت ہر ماہ 75 کروڑ پی ایف اور سی سی ایس کی مد میں ادا کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں 4538 ملازمین کی بھرتی جلد مکمل کی جائے گی تاکہ کام کا بوجھ کم ہو سکے جبکہ 1134 ہمدردانہ تقرریاں دی جا چکی ہیں اور تقریباً 250 ملازمین کو بحال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی بتدریج بحالی کی جانب گامزن ہے۔ لہٰذا اس مرحلے پر رکاوٹیں ادارے اور عوام دونوں کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔ مزید برآں انہوں نے بتایا کہ روزانہ تقریباً 65 لاکھ مسافر اس سروس سے مستفید ہوتے ہیں جن میں قریب 45 لاکھ خواتین شامل ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ملازمین جمہوری طریقوں سے احتجاج کریں لیکن خدمات کو متاثر نہ کریں۔ ان کے مطابق غریب افراد متبادل سفری سہولیات برداشت نہیں کر سکتے۔ آخرکار انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت تمام مسائل حل کرنے کے لیے پرعزم ہے جبکہ ملازمین سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل بھی کی۔