Read in English  
       
Regional Unity

حیدرآباد: کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے پیر کو کہا کہ تلنگانہ وژن دستاویز 2047 نہ صرف تلنگانہ بلکہ پورے جنوبی بھارت کے لیے ترقی کا جامع روڈ میپ ہے۔ رنگاریڈی ضلع کے بھارت فیوچر سٹی میں جاری تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دستاویز آنے والی نسلوں اور عالمی معیشت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے۔ شیوکمار نے اسے ’’مستقبل کے لیے سب سے بڑا وژن‘‘ قرار دیا۔

پس منظر کے مطابق انہوں نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے مستقبل بین منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے طویل المدتی ضروریات کو درست طور پر سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام جنوبی بھارت کی ترقی میں نئی سمت متعین کرے گا۔

ٹیکنالوجی، ترقی اور ریاستی ہم آہنگی | Regional Unity

شیوکمار نے حیدرآباد اور بنگلورو کے درمیان مقابلے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں شہر ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہیں۔ ’’ہم ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اور دنیا سے مقابلہ کرتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔ ان کے مطابق صحت، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں دونوں ریاستوں کا کردار نمایاں ہے۔

Regional Unity

انہوں نے مزید بتایا کہ جنوبی بھارت بھارت کی مجموعی جی ڈی پی میں 30 سے 35 فیصد حصہ ڈالتا ہے، جس میں تلنگانہ اور کرناٹک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمٹ پورے جنوبی بھارت اور ملک کے لیے باعثِ فخر ہے۔

ٹیکنالوجی میں حصہ داری اور مستقبل کا وژن | Regional Unity

کرناٹک کے ڈپٹی وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بنگلورو بھارت کی آئی ٹی ایکسپورٹس کا 40 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، جبکہ نسبتاً چھوٹی ریاست ہونے کے باوجود تلنگانہ کی ٹیکنالوجی میں شراکت بھی قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’تقریباً 13 لاکھ بھارتی انجینئر امریکہ کے شہر کیلیفورنیا جیسے مقامات پر کام کر رہے ہیں،‘‘ جو خطے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان تعاون جنوبی بھارت کی مجموعی ترقی کے لیے اہم ہے۔ ’’کرناٹک، جنوبی بھارت کی ترقی کے لیے تلنگانہ کے ساتھ کام کرے گا،‘‘ انہوں نے کہا اور مشترکہ مقصد اور مشترکہ وژن کی ضرورت پر زور دیا۔

مشاورت، شراکت داری اور مستقبل کی راہ | Regional Unity

شیوکمار نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے واضح طور پر سمجھ لیا ہے کہ ملک، دنیا اور آنے والی نسلوں کو کس قسم کی ترقی درکار ہے۔ دسمبر کے اس بین الاقوامی اجتماع میں پیش کیے گئے وژن سے ثابت ہوتا ہے کہ ریاستیں مل کر علاقائی تعاون کو مضبوط بنا سکتی ہیں اور عالمی مسابقت کی دوڑ میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سمٹ نہ صرف تلنگانہ بلکہ پورے جنوبی بھارت کے لیے ترقیاتی ہم آہنگی کا نیا دور شروع کر رہی ہے۔