Read in English  
       
CBI Prob

حیدرآباد: کنسرنڈ سٹیزنز فورم سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنوں اور وکلاء نے نظام آباد میں کانسٹیبل ای پرمود کمار کے قتل اور شیخ ریاض کی مبینہ حوالاتی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ مقابلہ فرضی تھا اور اس کے پیچھے جعلی کرنسی کے ایک بڑے ریکیٹ کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔

جمعہ کو بشیر باغ پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے ارکان سارہ میتھیوز، خالدہ پروین، محمد عبدالتاج، ایڈووکیٹ سمیر علی اور شیخ سکندر فراست نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ہلاکتوں کے حوالے سے پولیس کے بیانات میں واضح تضادات پائے جاتے ہیں۔

پولیس کارروائی پر سوالات | CBI Probe

ٹیم کے مطابق پرمود 17 اکتوبر کو ڈیوٹی پر نہیں تھے بلکہ ایک میڈیکل ایمرجنسی میں مدد کے لیے گھر سے نکلے تھے۔ اسی دوران ایک سینئر افسر نے انہیں ریاض کو تلاش کرنے کے لیے کہا۔ کارکنوں نے سوال اٹھایا کہ ایک غیر مسلح، آف ڈیوٹی کانسٹیبل کو کسی مجرم کے تعاقب کے لیے کیوں بھیجا گیا؟

انہوں نے کہا کہ واقعہ ایک مصروف علاقے کے قریب پیش آیا لیکن کوئی عینی شاہد سامنے نہیں آیا۔ پولیس کے پاس موجود سی سی ٹی وی فوٹیج مبہم ہے اور حملے کا اصل منظر واضح نہیں ہوتا۔

جعلی کرنسی اور رشوت کا الزام | CBI Probe

رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ ریاض کو آصف نامی شخص کی گاڑی سے 3 لاکھ روپئے کی جعلی کرنسی ملی تھی۔ اس نے اس رقم سے ایک سفید برگ مین اسکوٹر خریدا اور باقی رقم ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے استعمال کی۔

پرمود مبینہ طور پر پولیس اور ریاض کے درمیان رشوت کے لین دین میں ثالثی کر رہے تھے۔ الزام کے مطابق پہلے 3 لاکھ روپئے مانگے گئے جو بعد میں 1 لاکھ پر طے پائے۔ اسی دوران آصف کے گروپ نے ریاض پر حملہ کیا، جس میں پرمود بھی ہلاک ہو گئے۔

حوالاتی ہلاکت کے الزامات | CBI Probe

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کہا کہ پولیس کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ریاض ایک لاری میں چھپ کر مقابلے میں مارا گیا۔ کارکنوں کے مطابق اسے حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں فائرنگ کر کے فرضی مقابلے کا تاثر دیا گیا۔

ریاض کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ اس کے ہاتھ، پاؤں اور گردن توڑ دی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس نے اس کی والدہ، بیوی اور بچوں پر تشدد کیا اور ان کے فون ضبط کر لیے۔

انصاف اور معاوضے کا مطالبہ | CBI Probe

کارکنوں نے حوالاتی قتل، خواتین پر حملے اور بھتہ خوری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ریاض کے خاندان کے لیے 5 کروڑ روپئے معاوضہ، اس کی بیوی کو سرکاری ملازمت اور اہلِ خانہ کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔

سارہ میتھیوز نے اس واقعے کو 2015 کے آلیر مقابلے سے تشبیہ دی اور حکومت پر جوابدہی نہ ہونے کا الزام لگایا۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے کہا کہ صرف سی بی آئی تحقیقات ہی اس پورے معاملے کو بے نقاب کر سکتی ہیں۔