حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے منگل کے روز ایک اہم فیصلے میں ٹریفک پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ گاڑی مالکان کو زیر التوا ٹریفک چالان ادا کرنے پر مجبور نہ کریں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس طرح کا کوئی بھی جبر آئینی اور قانونی تحفظات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عدالت کی ڈویژن بنچ ریاست بھر میں زیر التوا ٹریفک چالان سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی۔ اس دوران وکیل وجے گوپال نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ معمول کی جانچ کے دوران شہریوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جو قانون کے منافی ہے۔
زبردستی وصولی اور چابیاں ضبط کرنا غیر قانونی | Traffic Challans
عدالت نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ ٹریفک اہلکاروں کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ گاڑیوں کو روک کر چابیاں ضبط کریں یا ڈراؤ دھمکا کر موقع پر ہی رقم وصول کریں۔ بنچ نے واضح کیا کہ اگر کوئی ڈرائیور اپنی مرضی سے ادائیگی کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہو سکتی ہے، مگر کسی قسم کا دباؤ، خوف یا غیر ضروری پریشانی پیدا نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے زور دیا کہ قانون کے نفاذ کے دوران شہریوں کے بنیادی حقوق مجروح نہیں ہونے چاہئیں۔ اسی تناظر میں ٹریفک پولیس کو سختی سے ہدایت دی گئی کہ زیر التوا چالان کے نام پر عوام کو ہراساں نہ کیا جائے۔
ڈیجیٹل نفاذ کے باوجود قانونی حدود لازم | Traffic Challans
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگرچہ حکومت جدید اور خودکار ٹریفک نفاذ کے نظام کو فروغ دینے کی بات کر رہی ہے، تاہم ہر صورت میں جواب دہی اور قانونی دائرہ اختیار کا احترام ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق ٹیکنالوجی کا استعمال شہری آزادیوں کو محدود کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔
عدالت کے اس فیصلے کو عوامی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے روزمرہ ٹریفک جانچ کے دوران شہریوں کو فوری ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
