حیدرآباد: بھارت میں سونے کی قیمتیں 2025 میں تاریخی بلندیوں پر پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین اس تیزی کا سبب عالمی منڈی میں مضبوط اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کو بتاتے ہیں۔ کچھ ماہرین اسے صرف کرنسی کے رسک سے جوڑتے ہیں، مگر تازہ اعداد و شمار صورتحال کو زیادہ پیچیدہ دکھاتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ رجحان نہ صرف منافع بلکہ خطرات کا اشاریہ بھی ہے۔
عالمی منڈی میں سونے کی صورتِ حال بھارتی مارکیٹ سے گہری جڑی ہے۔ جنوری سے دسمبر تک بین الاقوامی نرخ تقریباً پچاس فیصد بڑھے۔ اس دوران بھارتی روپیہ بھی قدرے کمزور ہوا، جس سے مقامی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھا گیا۔ مجموعی تاثر یہ ہے کہ عالمی رجحان ہی اصل محرک ہے جبکہ کرنسی کا اثر اس میں محض اضافہ کرتا ہے۔
عالمی رجحان کا غالب کردار – Gold Price Surge
2025 میں عالمی سطح پر سونے کی قیمتیں جنوری میں 2,800 ڈالر فی اونس سے بڑھ کر دسمبر میں تقریباً 4,200 ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اسی عرصے میں بھارتی روپیہ تقریباً پانچ فیصد کمزور ہوا اور 85.5 سے 90 روپے فی ڈالر تک آیا۔ کمزور کرنسی نے مقامی قیمتوں میں صرف چند فیصد مزید اضافہ کیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل قوت عالمی طلب اور سرمایہ کاروں کا بڑھتا اعتماد ہے۔
بھارت میں سونے کی قیمتیں 2025 میں ساٹھ فیصد سے زیادہ بڑھ کر 130,000 سے 130,500 روپے فی دس گرام تک پہنچ گئیں۔ اگر روپیہ 85.5 پر مستحکم رہتا تو ایک اونس سونا تقریباً 359,100 روپے کا ہوتا، نہ کہ 378,000 روپے، جس سے کرنسی کے اثر کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اسے بنیادی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اکتوبر میں سونے کی درآمدات 14.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دو سو فیصد زیادہ ہیں۔ اس سے تجارتی خسارہ بڑھا اور روپے پر مزید دباؤ پیدا ہوا۔
سرمایہ کاروں کے لیے پیغام – Gold Price Surge
ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کو محض منافع بخش سرمایہ کاری نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر 2026 میں روپیہ مضبوط ہوا تو مقامی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں، چاہے عالمی قیمتیں اپنی جگہ برقرار رہیں۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو رجحانات کو محتاط انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ متنوع سرمایہ کاری زیادہ محفوظ راستہ ہے۔ سَوِرِن گولڈ بانڈز اور ای ٹی ایف جیسے ذرائع افراطِ زر اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ دونوں کے خلاف بہتر تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ بھارت میں افراطِ زر اب بھی 5 سے 6 فیصد کے درمیان ہے، اس لیے سونا تحفظ کے طور پر بہتر آپشن رہتا ہے، مگر اسے قیاس آرائی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
عالمی بے یقینی، بڑھتی ہوئی طلب اور مرکزی بینکوں کی خریداری سے سونے کی مجموعی رفتار 2026 میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سونے کے نرخ اور ڈالر-روپیہ شرحِ مبادلہ دونوں کو باقاعدگی سے مانیٹر کریں۔ا
