Read in English  
       
OBC Quota

حیدرآباد: تلنگانہ کے نائب وزیراعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا نے کہا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ میں او بی سی کے لیے 42 فیصد ریزرویشن کے فیصلے کا مضبوطی سے دفاع کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے پاس ٹھوس قانونی دلائل اور مستند اعداد و شمار موجود ہیں جو اس فیصلے کو جائز ثابت کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں 50 فیصد کی حد سے تجاوز کرنے پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ میں اس مقدمے کی سماعت آج مقرر ہے۔

دہلی میں اعلیٰ سطحی اجلاس | OBC Quota

بھٹی وکرمارکا نے تلنگانہ بھون دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس میں وزراء پونم پربھاکر، واکٹی سری ہری، ایڈوکیٹ شروان کمار، بی سی ویلفیئر سکریٹری جیوُتی بدھا پرکاش اور کوآرڈینیشن سکریٹری گورو اپّل شریک ہوئے۔

اجلاس میں قانونی دستاویزات، سروے کی تفصیلات اور ثبوتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں نائب وزیراعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی نے بی سی ریزرویشن بل متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔

آئینی بنیاد اور سماجی انصاف کا معاملہ | OBC Quota

بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ 1990–91 میں سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ اگر کسی ریاست کے پاس ٹھوس اعداد و شمار ہوں تو وہ 50 فیصد سے زائد ریزرویشن دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق، تلنگانہ کا کیس آئینی اعتبار سے مضبوط ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سینئر وکلا ابھیشیک منو سنگھوی اور سدھارتھ دیو سپریم کورٹ میں ریاست کی نمائندگی کریں گے۔ نائب وزیراعلیٰ نے پُراعتماد انداز میں کہا کہ “کانگریس حکومت تلنگانہ میں 42 فیصد بی سی ریزرویشن نافذ کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔”

آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ صرف قانونی نہیں بلکہ لاکھوں او بی سی شہریوں کے سماجی انصاف سے بھی جڑا ہوا ہے۔ حکومت اپنے آئینی فریضے کے ہر پہلو کا دفاع کرے گی۔