Read in English  
       
Seat Delimitation

حیدرآباد: وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے لوک سبھا نشستوں میں مجوزہ اضافہ اور پرو ریٹا ماڈل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے جنوبی ریاستوں سے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تجویز نہ صرف سیاسی توازن کو متاثر کرے گی بلکہ وفاقی ڈھانچے کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے آندھرا پردیش، تمل ناڈو، کرناٹک، کیرالہ اور پڈوچیری کے وزرائے اعلیٰ کو خطوط لکھے۔ مزید برآں، ان خطوط میں انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ نشستوں میں اضافہ ایک ایسے طریقے سے کیا جا رہا ہے جو غیر متوازن نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

ریونت ریڈی کے مطابق خواتین ریزرویشن، حد بندی اور نشستوں میں اضافے جیسے معاملات کو ایک ساتھ ملا کر الجھن پیدا کی جا رہی ہے۔ تاہم، اصل مسئلہ لوک سبھا کی نشستوں کو تقریباً 850 تک بڑھانے کی تجویز ہے، جو مستقبل میں سیاسی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔

علاقائی توازن پر اثرات | Seat Delimitation

وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ مجوزہ ماڈل تمام ریاستوں میں نشستوں میں اضافہ تو کرے گا، لیکن اس سے ریاستوں کے درمیان فرق مزید بڑھ جائے گا۔ مثال کے طور پر آندھرا پردیش کی نشستیں 25 سے بڑھ کر تقریباً 38 ہو سکتی ہیں، جبکہ اتر پردیش 80 سے بڑھ کر تقریباً 120 نشستوں تک پہنچ سکتا ہے۔

اسی طرح تمل ناڈو اور پڈوچیری کی مجموعی نمائندگی تقریباً 60 نشستوں تک پہنچ سکتی ہے، تاہم اس کے باوجود اتر پردیش واضح برتری برقرار رکھے گا۔ مزید یہ کہ کرناٹک اور کیرالہ میں بھی یہی رجحان دیکھنے کو ملے گا، جس سے جنوبی ریاستوں کی آواز نسبتاً کمزور ہو سکتی ہے۔

متبادل ماڈل اور تجاویز | Seat Delimitation

ریونت ریڈی نے کہا کہ جنوبی ریاستوں نے آبادی پر قابو پانے، صحت عامہ اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم موجودہ ماڈل ان کامیابیوں کو نظرانداز کرتا ہے اور زیادہ آبادی والے علاقوں کو فائدہ دیتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کا طریقہ کار طویل مدتی عدم توازن پیدا کر سکتا ہے اور پارلیمنٹ میں مساوی نمائندگی کو کمزور کر سکتا ہے۔ اسی دوران انہوں نے مالی عدم مساوات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کچھ ریاستیں اپنی شراکت کے مقابلے میں زیادہ وسائل حاصل کر رہی ہیں۔

متبادل کے طور پر انہوں نے ایک ہائبرڈ ماڈل پیش کیا، جس کے تحت آدھی نئی نشستیں پرو ریٹا طریقے سے دی جائیں جبکہ باقی نشستوں کا انحصار معاشی کارکردگی اور دیگر اشاریوں پر ہو۔ آخر میں انہوں نے زور دیا کہ علاقائی توازن کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے، کیونکہ مساوی نمائندگی قومی یکجہتی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ لوک سبھا نشستوں کی تقسیم کا معاملہ مستقبل میں ایک بڑا سیاسی موضوع بن سکتا ہے۔ لہٰذا مختلف ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی اور مکالمہ اس مسئلے کے حل کے لیے اہم ہوگا۔