حیدرآباد: مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے اتوار کے روز کہا کہ مرکزی حکومت نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران تلنگانہ کی گرام پنچایتوں اور مقامی اداروں کو 11 ہزار کروڑ روپئے سے زائد کی رقم جاری کی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد دیہی سطح پر جمہوری نظام کو مضبوط بنانا اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے دیہی بلدیاتی اداروں کو مسلسل فنڈنگ جاری رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی گاؤں کی سطح پر جمہوری اداروں کو بااختیار بنانے کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ اس پالیسی سے دیہی علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تقویت ملی ہے۔
مرحلہ وار فنڈز کی اجرائی | Rural Funds
مرکزی وزیر کے مطابق 2015-16 سے 2019-20 کے درمیان تلنگانہ کی گرام پنچایتوں کو 5,060 کروڑ روپئے جاری کیے گئے۔ اس کے بعد 2020-21 سے 2025-26 کے عرصے میں اس رقم میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر 9,050 کروڑ روپئے مختص کیے گئے، جن میں سے 6,051 کروڑ روپئے پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بروقت فنڈز کی فراہمی سے دور دراز علاقوں میں بھی شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق مقامی اداروں کے انتخابات مکمل ہوتے ہی باقی ماندہ گرانٹس بھی جاری کر دی جائیں گی۔
سابق حکومت پر الزامات | Rural Funds
جی کشن ریڈی نے الزام عائد کیا کہ سابق بی آر ایس حکومت کے دور میں گرام پنچایت فنڈز کا غلط استعمال کیا گیا، جس کے باعث منتخب نمائندوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق فنڈز کی کمی کی وجہ سے کئی سرپنچوں کو استعفیٰ دینا پڑا، جبکہ بعض واقعات نہایت افسوسناک بھی سامنے آئے۔
انہوں نے موجودہ تلنگانہ حکومت پر زور دیا کہ وہ دیہی ترقی کے لیے مرکز کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز کی اسکیموں کا صحیح استعمال ہی دیہی علاقوں کی پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔
