Cyber Safety
حیدرآباد ۔ ملکاجگیری میں شی ٹیمز کی جانب سے منعقدہ ایک خصوصی بیداری پروگرام میں شہریوں کو سلامتی، تحفظ اور سائبر جرائم سے بچاؤ کے مختلف طریقوں سے آگاہ کیا گیا۔ شی ٹیم مَلکاجگیری نے یہ پروگرام مارکیٹ پولیس اسٹیشن حدود میں واقع شری گولڈ اینڈ ڈائمنڈ جیولری شاپنگ مال میں منعقد کیا۔
اس بیداری مہم میں مال کے ملازمین اور آنے والے شہریوں نے شرکت کی۔ پروگرام کے دوران عوامی تحفظ سے متعلق مختلف موضوعات پر تفصیلی اور معلوماتی سیشنز منعقد کیے گئے، جن میں روزمرہ زندگی میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
حکام نے سائبر جرائم اور قرض فراہم کرنے والی جعلی موبائل ایپلی کیشنز سے متعلق خطرات کی نشاندہی کی۔ مزید برآں شہریوں کو بتایا گیا کہ وہ اپنی ذاتی اور مالی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے کن اقدامات پر عمل کر سکتے ہیں۔
عوامی تحفظ پر خصوصی توجہ | Cyber Safety
پروگرام کے دوران خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق اہم معلومات بھی فراہم کی گئیں۔ حکام نے انسانی اسمگلنگ کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس کے علاوہ جرائم کی روک تھام میں سی سی ٹی وی نگرانی اور دیگر حفاظتی اقدامات کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔ شرکا کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے تصورات سے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہوئے بچوں کے تحفظ کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
دریں اثنا شی ٹیمز کے عہدیداروں نے عوام کو ٹی سیف ایپ اور مختلف ہنگامی خدمات کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ ضرورت کے وقت ان سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔
ہنگامی خدمات کے استعمال کی ترغیب | Cyber Safety
بیداری پروگرام میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت دی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر 112 پر رابطہ کریں تاکہ بروقت مدد حاصل کی جا سکے۔
مزید یہ کہ عوام کو معاونت اور رہنمائی کے لیے 8712662111 نمبر پر بھی رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ چنانچہ شہریوں کو دستیاب سرکاری خدمات اور حفاظتی نظام سے بھرپور استفادہ کرنے کی ترغیب دی گئی۔
یہ پروگرام شی ٹیمز کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد معاشرتی تحفظ کو مضبوط بنانا اور عوام میں جرائم سے بچاؤ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے۔ لہٰذا اس نوعیت کی مہمات نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتی ہیں بلکہ شہریوں میں اعتماد اور احساس تحفظ کو بھی فروغ دیتی ہیں۔
