حیدرآباد: تلنگانہ کے سدی پیٹ ضلع میں ککونور پلی پولیس نے بدھ کے روز تھیپّارم قتل کیس کو حل کرتے ہوئے چھ افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں دو کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے گھریلو جھگڑے کے دوران سندھو مہندر نامی شخص کو قتل کیا۔
گھریلو جھگڑوں سے تنگ آ کر قتل کی سازش | Thipparam Murder Case
گجویل اے سی پی کے نرسمہلو، ککونور پلی سی آئی لطیف اور ایس آئی پی سرینواس نے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔
پولیس کے مطابق 39 سالہ مہندر، تھیپّارم گاؤں کا رہائشی تھا اور شراب نوشی کا عادی بن چکا تھا۔ نشے کی حالت میں وہ اکثر اپنی بیوی سندھو سنتوشی اور بیٹوں سے جھگڑتا رہتا تھا۔
4 اکتوبر کی رات مہندر شراب پی کر گھر آیا اور بیوی سے جھگڑا شروع کر دیا۔ غصے میں سنتوشی اور اس کے بیٹوں نے لکڑی کے ڈنڈے سے اس کے سر پر ضرب لگائی جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ بعد میں اس نے دوبارہ شراب پی اور گھر میں بے ہوش ہو گیا۔
پولیس کے مطابق، طویل عرصے سے جاری جھگڑوں سے تنگ آ کر سندھو سنتوشی نے اپنے شوہر کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے اپنے بھائیوں سندھو بابو اور سندھو مچگیری سوامی، رشتہ دار مددپورم یلا ییا، اور اپنے دو بیٹوں کی مدد لی۔
اسی رات ملزمان نے بے ہوش مہندر کو ایک آٹو میں بٹھا کر قریبی نالے کے پل تک لے گئے۔ انہوں نے اس کے پاؤں تولیے سے، ہاتھ ناریل کی رسی سے باندھے اور کمر پر پتھر باندھ دیے۔ پولیس کے مطابق، مہندر اس وقت زندہ تھا جب اسے نالے میں پھینکا گیا۔
تین دن میں کیس حل، ملزمان گرفتار | Thipparam Murder Case
6 اکتوبر کو مقامی افراد نے نالے میں ایک لاش دیکھی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو نکالا اور آدھار کارڈ کے ذریعے متوفی کی شناخت مہندر کے طور پر کی۔
تحقیقات کے بعد پولیس نے 7 اکتوبر کو سنتوشی اور دیگر پانچ افراد کو گرفتار کیا۔ پوچھ گچھ کے دوران تمام ملزمان نے جرم کا اعتراف کر لیا۔
پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والا آٹو رکشہ اور ایک TVS XL موٹر سائیکل بھی ضبط کی۔ اے سی پی نرسمہلو نے سی آئی لطیف، ایس آئی سرینواس اور اہلکاروں کی ٹیم کی فوری کارروائی کی تعریف کی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد کے واقعات اکثر سنگین جرائم میں بدل جاتے ہیں، اس لیے عوام کو اختلافات کے حل کے لیے قانونی اور سماجی راستے اختیار کرنے چاہئیں۔ تھیپّارم کیس میں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
