Digital Cabinet System
حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے سرکاری انتظامی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ڈیجیٹل کابینہ نظام کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے کابینہ اجلاسوں کو مکمل طور پر پیپر لیس بنانے اور سرکاری ریکارڈ کے انتظام کو ڈیجیٹل شکل میں منتقل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کو تقریباً 2 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انتظامی کارکردگی بہتر بنانے اور جدید طرز حکمرانی کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
مزید برآں حکام نے بتایا کہ اتراکھنڈ میں اس نوعیت کا نظام پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے۔ چنانچہ تلنگانہ حکومت اسی ماڈل کو اپنی ضروریات کے مطابق مناسب تبدیلیوں کے ساتھ اختیار کرے گی۔
پیپر لیس کابینہ اجلاسوں کی جانب پیش رفت | Digital Cabinet System
دریں اثنا حکومت نے منصوبے کے نفاذ کے لیے نیشنل انفارمیٹکس سینٹر سروسز انکارپوریٹڈ (این آئی سی ایس آئی) کے ساتھ مشاورت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تلنگانہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سروسز (ٹی جی ڈی ٹی ایس) کو اس منصوبے کی عمل آوری کے لیے نوڈل ایجنسی مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت نے منصوبے کے آغاز کے لیے پہلی قسط کے طور پر 20 لاکھ روپے بھی منظور کیے ہیں۔ نئے نظام کے تحت وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ اور دیگر وزراء ٹیبلیٹس اور کمپیوٹرز کے ذریعے کابینہ ایجنڈا اور سرکاری فائلوں تک براہ راست رسائی حاصل کر سکیں گے۔
انتظامی شفافیت اور رفتار میں بہتری | Digital Cabinet System
اس منصوبے کے تحت کابینہ نوٹس، تجاویز اور فیصلے مکمل طور پر ڈیجیٹل فارمیٹ میں دستیاب ہوں گے۔ مزید یہ کہ وزراء کسی بھی مقام سے اور کسی بھی وقت کابینہ کے ایجنڈے کا جائزہ لینے کے قابل ہوں گے، جس سے انتظامی عمل مزید آسان ہو جائے گا۔
حکام کے مطابق نظام میں مضبوط سکیورٹی انتظامات شامل کیے جائیں گے تاکہ غیر مجاز رسائی، معلومات کے افشا اور ہیکنگ کی کوششوں کو روکا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے مخصوص لاگ اِن اسناد اور پاس ورڈ پر مبنی تصدیقی نظام استعمال کیا جائے گا۔
چنانچہ کابینہ اجلاسوں سے قبل اور بعد میں فائلوں کے انتظام کا عمل زیادہ منظم اور مؤثر ہو جائے گا۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس اقدام سے انتظامی رفتار، شفافیت اور فیصلہ سازی کے مجموعی معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔
مزید برآں ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے کاغذی کارروائی میں کمی ہوگی اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی کو بھی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
