Panchayat Monitoring

حیدرآباد:۔تلنگانہ حکومت نے ریاست بھر میں فلاحی اور ترقیاتی پروگراموں پر مؤثر نگرانی کے لیے نیا پنچایت راج مانیٹرنگ نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نظام کے تحت خصوصی ڈیش بورڈ اور پروگرام مانیٹرنگ یونٹ (پی ایم یو) قائم کیا جائے گا تاکہ مختلف ترقیاتی منصوبوں پر حقیقی وقت میں نظر رکھی جا سکے۔ مزید برآں حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے منصوبوں پر عمل درآمد مزید مؤثر اور شفاف بنایا جائے گا۔

پنچایت راج اور دیہی ترقی محکمہ کے خصوصی چیف سیکریٹری ایم دانا کشور نے جمعہ کے روز اس نئے نظام سے متعلق سرکلر جاری کیا۔ اس کے مطابق ڈیش بورڈ کے ذریعے ضلع، منڈل اور گرام پنچایت کی سطح پر ہر اسکیم اور ترقیاتی کام کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے گا۔ تاہم اگر کسی منصوبے میں تاخیر سامنے آئے تو متعلقہ حکام فوری مداخلت کرتے ہوئے مسائل کے حل کو یقینی بنائیں گے۔

نگرانی کا نیا نظام اور شفافیت | Panchayat Monitoring

حکومت کے مطابق آئی ٹی اور ڈیٹا ماہرین پر مشتمل خصوصی پروگرام مانیٹرنگ یونٹ روزانہ کی بنیاد پر مختلف اسکیموں پر عمل درآمد کا جائزہ لے گا اور متعلقہ حکام کو تجزیاتی معلومات فراہم کرے گا۔ اسی دوران اس نظام سے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی، جس سے عوامی خدمات کی فراہمی مزید بہتر بنائی جا سکے گی۔

یہ اقدام پنچایت راج اور دیہی ترقی کی وزیر سیتکا کی ہدایات پر کیا گیا ہے۔ مزید برآں حکومت کا مقصد فلیگ شپ پروگراموں کی مسلسل نگرانی، شفافیت میں اضافہ، جوابدہی کو مضبوط بنانا اور عوامی شکایات کے ازالے کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ اس کے علاوہ گرام سبھا اجلاسوں میں اٹھائے جانے والے مسائل کو بھی پہلے سے زیادہ تیزی سے حل کرنے میں مدد ملے گی۔

گرام پنچایت بک لیٹ کی تیاری | Panchayat Monitoring

حکومت نے ہر گاؤں سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنے کے لیے گرام پنچایت بک لیٹ تیار کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ اس بک لیٹ میں ترقیاتی کاموں، فلاحی اسکیموں، عوامی خدمات، بنیادی ڈھانچے اور ہر گرام پنچایت میں دستیاب سہولیات کی جامع تفصیلات شامل ہوں گی۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے ریاستی سطح پر مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو فارمیٹ کی تیاری، تربیتی پروگراموں کے انعقاد اور ضروری آئی ٹی نظام کی تیاری کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔

حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام متعلقہ محکموں کے تعاون سے بک لیٹ کا ابتدائی مسودہ تیار کرکے حکومتی منظوری کے لیے پیش کریں۔ اس دستاویز میں تمام فلاحی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے، انفرادی اور اجتماعی فوائد اور ہر گرام پنچایت میں دستیاب خدمات کی مکمل معلومات شامل کی جائیں گی تاکہ دیہی ترقی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔