Read in English  
       
Musi River Floods

حیدرآباد ۔ شدید بارشوں کے بعد حمایت ساگر اور عثمان ساگر سے پانی کے بڑے پیمانے پر اخراج نے موسی ندی کو خطرناک حد تک بڑھا دیا۔ جمعہ کی نصف شب تک ندی نے شہر کے کئی حصوں میں زبردست طغیانی Musi River Floods پیدا کر دی جس سے عوام کو انخلا اور ٹریفک میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

چادر گھاٹ پر ندی کا پانی چھ فٹ تک نچلے پل کے اوپر بہہ گیا جبکہ موسیٰ رام باغ میں یہ سطح دس فٹ تک پہنچ گئی۔ اس دوران Musi River Floods سے اطراف کی بستیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور درجنوں مکین رات بھر کرب میں رہے۔ حکام نے بتایا کہ دن کے اوائل میں 13,500 کیوسک پانی چھوڑا گیا تھا لیکن اوپر کے علاقوں میں بارش جاری رہنے کے سبب شام 8 بجے کے بعد یہ اخراج 35,000 کیوسک تک بڑھا، جو حالیہ برسوں میں نہیں دیکھا گیا تھا۔ موسیٰ رام باغ کے پل کے قریب تعمیراتی سامان بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔

رہائشی علاقوں اور ٹریفک پر اثرات

امبیڈکر بستی سمیت دونوں کناروں پر کئی کالونیاں زیر آب آ گئیں۔ جی ایچ ایم سی اور پولیس نے سینکڑوں مکینوں کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا، تاہم موسی نگر، شنکر نگر، رسول پورہ، کملا نگر اور ونائک ویدی میں کئی خاندان ابتدائی طور پر نکلنے کو تیار نہ ہوئے اور پولیس کو زبردستی انخلا کرانا پڑا۔ شہری ضروری سامان کے ساتھ جی ایچ ایم سی کے شیلٹرز اور محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے۔

اسی دوران پولیس نے چادر گھاٹ اور موسیٰ رام باغ کے پلوں پر ٹریفک بند کر دی جس سے دلسکھ نگر اور کوٹھی کے درمیان آمد و رفت رک گئی۔ نرسنگی میں او آر آر سروس روڈ پانی میں ڈوب گئی جس سے شدید ٹریفک جام پیدا ہوا۔ جی ایچ ایم سی کمشنر آر وی کرنن نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ پٹن چیرو ہائی وے بھی زیر آب آ گیا جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

زرعی اراضی اور ہوائی اڈے پر صورتحال

ہائی ٹیک سٹی میں پانی جمع ہونے کے سبب بلدی عملے کو موٹر پمپ کے ذریعے نکاسی کرنی پڑی۔ پولیس نے کلثوم پورہ سے پرانا پل تک کئی راستے بند کر دیے۔ پٹن چیرو منڈل میں نیشنل ہائی وے 65 پر گھٹنوں تک پانی آگیا۔ موسی اور عیسی ندی کے بہاؤ نے اطراف کی زرعی اراضی کو ڈبو دیا، جس سے موئن آباد، شمس آباد، شاہ آباد، شنکرپلی اور گنڈی پیٹ کے کسانوں کو بھاری نقصان پہنچا۔

شدید موسم کے باعث شمس آباد ہوائی اڈے پر بھی پروازیں متاثر ہوئیں۔ کئی فلائٹس کو وجے واڑہ منتقل کیا گیا، جبکہ انڈیگو کی ممبئی، کولکاتہ اور پونے سے آنے والی تین پروازوں کو لینڈنگ کلیئرنس نہ مل سکی۔