حیدرآباد: تلنگانہ میں بی سی گروپس نے شہر بھر میں شدید احتجاج کیا، جب بی سی اسوسی ایشنز جے اے سی کے چیئرمین آر کرشنیا نے الزام لگایا کہ حکومت نے دو سال تک بی سی ریزرویشنز پر گمراہ کیا۔ ان کے مطابق نیا جی او 46 بی سی طبقے کے سیاسی مستقبل پر ’’براہِ راست ضرب‘‘ ہے اور اسے فوری واپس لیا جانا چاہیے۔
کرشنیا نے وِدیا نگر، عنبرپیٹ اور بشیر باغ میں احتجاجی پروگراموں میں شرکت کی، جہاں بی سی قائدین نے جی او 46 کی کاپیاں نذرِ آتش کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکم نامہ بی سی طبقے کو سیاسی طاقت سے دور رکھنے کی بڑی کوششوں کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 42 فیصد ریزرویشن کا وعدہ کیا تھا مگر عملی قدم نہ اٹھایا۔
احتجاج میں شدت، وعدوں پر سنگین سوال | BC Protest GO 46
کرشنیا نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت نے دو سال تک بی سی طبقے کو امید دلانے کے بعد آخری وقت میں انہیں نظرانداز کر دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اب بی سی تنظیمیں اپنی تحریک کو مزید تیز کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک جی او 46 مکمل طور پر واپس نہیں لیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔
بی سی قائدین نے دعویٰ کیا کہ یہ قدم بی سی نمائندگی کو کمزور کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ شرکا نے کہا کہ بی سی کمیونٹی کے سیاسی حقوق کو اس طرح محدود کرنا کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔
شہری سطح پر بڑھتی آوازیں | BC Protest GO 46
احتجاج میں نیلا وینکٹیش، راجندر مدیراج، پگیلا ستیش، ریگا ارون کمار، اننتیا، ناگیشور راؤ، نوکلماں ، راجو گوڑ اور بھومنا یادو سمیت متعدد قائدین شامل ہوئے۔ مظاہرین نے کہا کہ بی سی ریزرویشن کوئی رعایت نہیں بلکہ حق ہے، اور اس کے تحفظ کے لیے اجتماعی جدوجہد ناگزیر ہے۔
تنظیمی رہنماؤں نے زور دیا کہ شفاف ڈیٹا، واضح قانونی بنیاد اور بروقت فیصلہ ہی بی سی طبقے کا اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک ریاست گیر سطح تک وسعت پائے گی تاکہ حکومت پر دباؤ برقرار رہے۔
