Read in English  
       
H-1B Visa Fee

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر برائے آئی ٹی و انڈسٹریز دُڈّیلا سریدھر بابو نے ہفتہ کو مرکز پر سخت تنقید کی کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے H-1B Visa Fee میں سالانہ 100,000 ڈالر کے اضافے پر خاموش ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ فیصلہ بھارتی مفادات، خاص طور پر ٹیک سیکٹر کو بری طرح متاثر کرے گا۔

مرکز کی ناکامی

سریدھر بابو نے کہا کہ مرکزی حکومت نے نہ تو پیشگی سفارتی بات چیت کی اور نہ ہی موجودہ ایچ ون بی ویزا ہولڈرز کے لیے کوئی رعایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق بھارت پہلے ہی کچھ درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف میں اضافے سے متاثر ہوا ہے، اور اب یہ ویزا فیس ایک اور بڑا دھچکا ہے۔

فوری اقدام کا مطالبہ

انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد اقدامات کریں۔ سریدھر بابو نے تجویز دی کہ موجودہ ویزا ہولڈرز کو عارضی چھوٹ دی جائے، بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے خصوصی تعاون فراہم کیا جائے اور ترسیلات زر پر منحصر خاندانوں کا تحفظ کیا جائے۔

تلنگانہ پر اثرات

وزیر نے خبردار کیا کہ اس فیصلے سے سب سے زیادہ نقصان تلنگانہ کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت مرکز کو باضابطہ طور پر مکتوب روانہ کرے گی اور فوری مداخلت کا مطالبہ کرے گی۔

مرکز پر سیاسی الزام

تلنگانہ کے وزیر سریدھر بابو نے مرکز پر الزام لگایا کہ وہ بیرون ملک قومی مفادات کو نظرانداز کر رہا ہے اور اندرون ملک وفاقی ڈھانچے کو کمزور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ H-1B Visa Fee میں اضافہ مثبت اقدام کے طور پر پیش کرنا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔

ان کے مطابق بھارت ایک “یونین آف اسٹیٹس” ہے لیکن مرکز بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں کو ترجیح دے کر تلنگانہ کو مسلسل نظرانداز کر رہا ہے۔