Read in English  
       
LPG Price Rollback

حیدرآباد ۔ بھارت راشٹرا سمیتی کے کارگزار صدر کے ٹی راما راو نے ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، جسے انہوں نے غریبوں اور مزدوروں پر بوجھ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز تلنگانہ بھون میں یوم مئی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مزید برآں، انہوں نے مرکزی حکومت کی ایندھن قیمتوں کی پالیسیوں پر سخت تنقید بھی کی۔

پس منظر کے طور پر کے ٹی راما راو نے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے ایک ہی فیصلے میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمت تقریباً 1000 روپے تک بڑھا دی ہے۔ انہوں نے اس اضافے کو غیر معمولی اور عوامی مفاد کے خلاف قرار دیا۔ تاہم، ان کے مطابق اس اقدام سے خاص طور پر کمزور طبقات زیادہ متاثر ہوں گے۔

کاروبار پر اثرات اور معاشی دباؤ | LPG Price Rollback

کے ٹی راما راو نے کہا کہ حیدرآباد میں کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 3315 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہوٹلوں، چھوٹے کاروباروں اور خود روزگار افراد پر شدید دباؤ پڑے گا۔ مزید یہ کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتیں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مہمان نوازی کے شعبے میں کئی ادارے بند ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں افراد کی ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جو معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

مہنگائی اور قومی سطح پر ردعمل | LPG Price Rollback

دوسری جانب کے ٹی راما راو نے مرکزی حکومت پر ٹیکس کے ذریعے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور روپیہ کمزور ہو رہا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے ملک بھر کی اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے پر متحد ہو جائیں۔

انہوں نے زور دیا کہ قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اپنانا ضروری ہے تاکہ عوام پر بڑھتے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایل پی جی، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے کیونکہ یہی عوامی ریلیف کا واحد راستہ ہے۔

نتیجتاً، کے ٹی راما راو کے بیان نے ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی کے مسئلے کو ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بنا دیا ہے، جس کے دور رس اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔