حیدرآباد: تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ کی تیاریاں تیز ہو گئیں کیونکہ وزیر سریدھر بابو نے چیف سکریٹری اور سینئر عہدیداروں کے ساتھ فیوچر سٹی میں جاری کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ریاستی حکومت نے اس سمٹ کے ذریعے تلنگانہ کو عالمی سطح پر پیش کرنے اور بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اجلاس 8 اور 9 دسمبر کو مقرر ہے اور ملک و بیرونِ ملک سے مندوبین کو مدعو کیا گیا ہے۔
جائزے کے دوران عہدیداروں نے وزیر کو مختلف انتظامات کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ تاہم سریدھر بابو نے آر اینڈ بی کاموں کی سست رفتار پر تشویش کا اظہار کیا اور ہدایت دی کہ تمام سرگرمیاں تیزی سے مکمل کی جائیں۔ انہوں نے افسران سے کہا کہ مقررہ مدت میں کام پورا کرنے کے لئے ضرورت پڑنے پر تین شفٹوں میں بھی کام کیا جائے۔
طویل المدتی وژن اور حکومتی حکمتِ عملی | Summit Prep
ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ حکومت کا ہدف 2047 تک تلنگانہ کو تین کھرب ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی ایم ایس ایم ای پالیسی حکومت سنبھالتے ہی جاری کی گئی تاکہ صنعتوں کو مضبوط سہارا مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ کا مقصد صرف تجارت اور کاروبار نہیں بلکہ فلاحی ترقی کے پہلوؤں کو بھی آگے بڑھانا ہے۔ ان کے مطابق ریاست معاشی سرگرمیوں میں جدت اور شمولیت پیدا کرنے کے لئے پالیسی سطح پر تیز اقدامات کر رہی ہے۔
مرکز کے ساتھ تعاون اور ترقیاتی ترجیحات | Summit Prep
سریدھر بابو نے اعتراف کیا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت کے ساتھ نظریاتی اختلافات موجود ہیں۔ اس کے باوجود، انہوں نے کہا کہ ترقیاتی امور پر تعاون میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست قومی سطح کے ترقیاتی منصوبوں پر مرکز کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔
عہدیداروں کے مطابق، آنے والا سمٹ ریاست کی معاشی حکمتِ عملی کو نئی رفتار دے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیوچر سٹی میں جاری انتظامات مکمل ہونے کے بعد سمٹ کو بڑے پیمانے پر منعقد کیا جا سکے گا، جس سے ریاست کے عالمی روابط مضبوط ہوں گے۔
