Read in English  
       
Jubilee Hills By-Election

حیدرآباد : جوبلی ہلز اسمبلی نشست کے ضمنی انتخاب کیلئے منگل کے روز نامزدگیوں کی آخری تاریخ ختم ہوگئی، جس کے ساتھ ہی 180 امیدوار میدان میں آگئے — یہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ آخری دن بڑی تعداد میں امیدواروں نے اپنے کاغذات جمع کرائے۔

انتخابی حکام کے مطابق سہ پہر 3 بجے تک موصول ہونے والی تمام درست نامزدگیاں قبول کر لی گئیں۔ کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ بدھ کے روز کی جائے گی، جبکہ امیدواروں کو 24 اکتوبر تک نام واپس لینے کی اجازت ہوگی۔

آزاد امیدواروں کی غیر معمولی شمولیت | Jubilee Hills By-Election

اہم سیاسی جماعتوں کے ساتھ درجنوں آزاد امیدواروں نے بھی میدان میں اتر کر مقابلے کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ ان میں ریجنل رنگ روڈ (آر آر آر) سے متاثرہ کسان، بے روزگار نوجوان اور سبکدوش سرکاری ملازمین شامل ہیں۔ ان کی شرکت سے یہ انتخاب روایتی پارٹی سیاست سے ہٹ کر عوامی نوعیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

بی جے پی نے دیپک ریڈی کو امیدوار نامزد کیا ہے، جنہوں نے 2023 کے اسمبلی انتخاب میں 25 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔ کانگریس نے نوین یادو کو میدان میں اتارا ہے، جبکہ بی آر ایس ماگنٹی سنیتا گوپی ناتھ پر انحصار کر رہی ہے۔

تین طرفہ سخت مقابلے کے امکانات | Jubilee Hills By-Election

یہ ضمنی انتخاب ریاست کی تین بڑی جماعتوں کیلئے وقار کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس اپنی انتخابی حکمت عملی پر خاص توجہ دے رہی ہے اور امیدوار کے انتخاب میں غیر معمولی احتیاط برتی گئی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، بی جے پی، کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔ مقامی مسائل اور آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد کے باعث یہ ضمنی انتخاب تلنگانہ کی حالیہ تاریخ کے سب سے دلچسپ انتخابات میں شمار کیا جا رہا ہے۔