Read in English  
       
Drug Peddling

حیدرآباد: حیدرآباد نارکوٹکس انفورسمنٹ ونگ نے مساب ٹینک پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں تین منشیات فروشوں کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران 11 گرام ایم ڈی ایم اے ضبط کی گئی۔ پولیس کے مطابق اس کارروائی سے شہر میں منشیات کی سپلائی چین کو دھچکا لگا ہے۔

پولیس نے ملزمان کی شناخت اپوتوری کارتھیک، چیرومامیلا بالاجی اور تاندرا دیپک کے طور پر کی ہے۔ تلاشی کے دوران تین موبائل فون، ایک دو پہیہ اور ایک چار پہیہ گاڑی بھی ضبط کی گئی۔ ضبط شدہ املاک کی مجموعی مالیت 4.65 لاکھ روپئے بتائی گئی ہے۔

حکام کے مطابق کارتھیک، جسے الیکس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، آندھرا پردیش کے ضلع پرکاشم سے تعلق رکھتا ہے۔ بالاجی اور دیپک مدچل ملکاجگیری ضلع کے جیڈی میٹلہ علاقے میں مقیم تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں مقامی صارفین کو ایم ڈی ایم اے فراہم کر رہے تھے۔

نیٹ ورک کی تیاری | Drug Peddling

تفتیش میں سامنے آیا کہ مالی دباؤ کے باعث کارتھیک نے منشیات کے کاروبار میں قدم رکھا۔ اس نے ایم ڈی ایم اے حاصل کرنے کے طریقے اپنے بہنوئی بالاجی سے سیکھے، جس کا مجرمانہ پس منظر رہا ہے۔ بعد ازاں کارتھیک بنگلورو گیا اور وہاں سے منشیات حاصل کر کے حیدرآباد میں ایک ایک گرام کے پیکٹس بنا کر فروخت کرنے لگا۔

پولیس کے مطابق بالاجی خود بھی ایم ڈی ایم اے استعمال کر چکا تھا اور اس کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو چکا تھا۔ جیل سے رہائی کے بعد اس نے پرتعیش طرزِ زندگی برقرار رکھنے کے لیے دوبارہ منشیات فروشی شروع کی۔ وہ کارتھیک سے فی گرام 4,000 روپئے میں ایم ڈی ایم اے خرید کر زیادہ قیمت پر فروخت کرتا تھا۔

نوجوانوں میں بڑھتی لت | Drug Peddling

بعد میں بالاجی نے تاندرا دیپک کو بھی اس نیٹ ورک میں شامل کیا، جو پہلے سے ایم ڈی ایم اے کا عادی تھا۔ دیپک نے ایک گرام منشیات 5,000 روپئے میں خرید کر آگے فروخت کرنا شروع کیا۔ وہ بی ٹیک سول کا طالب علم تھا اور ایک نجی کمپنی میں ملازمت بھی کر رہا تھا۔

پولیس کے مطابق نشے کی لت نے دیپک کو ذاتی استعمال سے منشیات فروشی کی طرف دھکیل دیا۔ وہ بالاجی کے تحت سب پیڈلر کے طور پر کام کر رہا تھا اور باقاعدگی سے منشیات حاصل کرتا تھا۔

ڈی سی پی گائیکواڑ ویبھو رگھوناتھ نے کہا کہ نوجوانوں میں منشیات کی لت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ رجحان خاندانوں کو متاثر کرنے کے ساتھ معاشرے کو بھی کمزور کرتا ہے۔ پولیس نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور منشیات سے دور رہنے کے لیے آگاہی کو فروغ دیں۔