Read in English  
       
Telangana Politics

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر کومٹی ریڈی وینکٹ ریڈی نےآندھراپردیش کے نائب وزیراعلیٰ اور تلگو ایکٹر پون کلیان کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ریمارکس عوامی جذبات کو مجروح کرتے ہیں اور اس طرح کی زبان کسی صورت قابل قبول نہیں۔ وزیر نے واضح کیا کہ معاملہ طول پکڑنے کی صورت میں ریاست کے سینما گھروں میں اداکار کی فلمیں نمائش کے قابل نہیں رہیں گی۔

پس منظر میں یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پون کلیان کے ایک بیان کو تلنگانہ کے عوام نے ناگوار سمجھا۔ وزیر نے کہا کہ ریاست کے لوگوں نے کبھی آندھرا پردیش کے شہریوں کے لیے مشکلات پیدا نہیں کیں۔ ان کے مطابق فلورائیڈ سے متعلق سابقہ مسائل بھی پرانی حکومتوں کی پالیسیوں کا نتیجہ تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ تاریخی حقائق کو نظر میں رکھ کر ہی سیاسی گفتگو کی جانی چاہیے۔

بات چیت کے دوران وزیر نے کہا کہ وہ فلمی نمائش کے محکمے کی ذمہ داری رکھتے ہیں، اس لیے وہ مناسب کارروائی کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع برقرار رہا تو سینما گھروں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ پون کلیان کی فلمیں نہ دکھائیں۔

تلنگانہ میں عوامی ردعمل بڑھ گیا | Telangana Politics

پون کلیان کے آندھرا کے گوداوری اضلاع کے دورے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ ان کے اس بیان نے تلنگانہ کی قیادت کو برہم کر دیا کہ خطے کی ہریالی نے ریاست کی تقسیم میں کردار ادا کیا تھا۔ مزید یہ کہ جس طرح انہوں نے ناریل کے درختوں کے خشک ہونے کو تلنگانہ کی قیادت کی “نظر بد” سے جوڑا، اسے عوام نے بھی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔

تلنگانہ کے متعدد سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ اس طرح کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق ایسے بیانات ساحلی اضلاع کے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹا دیتے ہیں۔ انہوں نے پون کلیان پر زور دیا کہ وہ گفتگو کی وضاحت کریں یا اپنے الفاظ واپس لیں تاکہ صورتحال مزید نہ بگڑے۔

سیاسی قیادت کی آراء اور مستقبل کا منظرنامہ | Telangana Politics

بعد ازاں کومٹ ریڈی نے چرنجیوی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک مقبول فنکار اور شائستہ شخصیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پون کلیان سیاسی معاملات میں نسبتاً کم تجربہ رکھتے ہیں، اور اسی وجہ سے ان کے بیانات میں غیر سنجیدگی نظر آئی۔ تلنگانہ میں مختلف حلقے اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ سیاسی بیانات ذمہ داری کے ساتھ دیے جائیں۔

پون کلیان کے بیان پر بڑھتی ہوئی تنقید نے دونوں ریاستوں کے درمیان سیاسی ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ رہنماؤں کا خیال ہے کہ باہمی احترام اور صحت مند مکالمہ ہی تنازع کم کرنے کا واحد راستہ ہے۔