حیدرآباد: بی آر ایس کے رہنما اور سابق وزیر ہریش راؤ کو پیر کے روز فون ٹیپنگ کیس میں بڑی قانونی راحت ملی، جب سپریم کورٹ نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے دائر کی گئی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت عظمیٰ نے اس فیصلے کے ساتھ ہائی کورٹ کے اس حکم کو برقرار رکھا، جس میں ہریش راؤ کے خلاف درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
جسٹس بی وی ناگرتنا کی قیادت والی بنچ نے ریاستی حکومت کی جانب سے دائر دو خصوصی اجازت درخواستوں کو خارج کر دیا۔ یہ درخواستیں ہریش راؤ اور سابق ڈی سی پی رادھا کشن راؤ کے خلاف کارروائی بحال کرانے کے لیے دائر کی گئی تھیں۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق | Phone Tapping
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اسے تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ اسی بنیاد پر عدالت نے ریاستی حکومت کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے پہلے سے دی گئی راحت کو برقرار رکھا۔
اس فیصلے کے بعد ہریش راؤ فون ٹیپنگ معاملے میں قانونی طور پر بری ہو گئے ہیں، جسے بی آر ایس حلقوں میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی ردعمل اور الزامات | Phone Tapping
بی آر ایس قائدین نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم نے ان کے مؤقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا الزام ہے کہ کانگریس کی قیادت والی حکومت نے سیاسی انتقام کے تحت مقدمات قائم کیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ریاستی حکومت کی جانب سے اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کا پردہ فاش ہوا ہے۔ دوسری جانب، کانگریس حکومت کی جانب سے اس عدالتی فیصلے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ فیصلہ تلنگانہ کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
