حیدرآباد: تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے منگل کے روز سابق بی آر ایس رکن پارلیمنٹ سنتوش راؤ کے خلاف سخت الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنتوش راؤ نے مبینہ طور پر مخبر کا کردار ادا کرتے ہوئے تلنگانہ تحریک کو اندر سے کمزور کیا۔ اسی دوران، انہوں نے الزام لگایا کہ کئی سرگرم کارکنوں کو سابق وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ سے دانستہ طور پر دور رکھا گیا۔
پس منظر کے طور پر، کویتا نے فون ٹیپنگ کیس میں ایس آئی ٹی کی جانب سے سنتوش راؤ کو طلب کیے جانے پر ردعمل ظاہر کیا۔ ان کے مطابق، یہ اقدامات تحریک کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔ نتیجتاً، کئی سرکردہ کارکنوں کو پرگتی بھون کے باہر انتظار کرنا پڑا اور انہیں اندر رسائی نہیں ملی۔
کویتا نے مزید الزام لگایا کہ مشہور ثقافتی شخصیت غدر کو بھی ایسی مداخلت کے باعث ذلت آمیز صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق، مخلص کارکنوں کو جان بوجھ کر حاشیے پر رکھا گیا، جس سے تحریک کی روح کو گہرا نقصان پہنچا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل سے کارکنوں میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔
فون ٹیپنگ معاملہ | Telangana Movement
فون ٹیپنگ کیس پر بات کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ انہیں اس بات پر کم ہی یقین ہے کہ سنتوش راؤ کو سزا ملے گی۔ اگرچہ، ایس آئی ٹی کی جانچ جاری ہے، لیکن پھر بھی جواب دہی کے حوالے سے شکوک برقرار ہیں۔ ان کے بقول، آخرکار وقت ہی اس معاملے کا فیصلہ کرے گا، تاہم، شفاف کارروائی ناگزیر ہے۔
زخمی کانسٹیبل سے ملاقات | Telangana Movement
اس سے قبل، کویتا نے منشیات اسمگلروں کے حملے میں زخمی ہونے والی ایکسائز کانسٹیبل سومیا کی عیادت کی۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے دوبارہ سنتوش راؤ پر تنقید دہرائی۔ انہوں نے کہا کہ جو کارکن تلنگانہ کے لیے لڑے، وہ عزت اور رسائی کے حقدار ہیں۔ لہٰذا، انہیں الگ تھلگ کرنا تحریک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔
آخر میں، کویتا نے اس بات پر زور دیا کہ تحریک کی قربانیوں کا احترام ہونا چاہیے۔ چنانچہ، ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی صورت میں عوامی اعتماد مزید کمزور ہوگا۔
