Read in English  
       
July 9 Strike

حیدرآباد: ملک بھر میں بدھ، 9 جولائی کو ایک بڑی ملک گیر ہڑتال یعنی [en]July 9 Strike[/en] منائی جائے گی، جسے “بھارت بند” کا نام دیا گیا ہے۔ اس احتجاج میں 25 کروڑ سے زائد مزدوروں اور ملازمین کی شرکت متوقع ہے، جو مرکز کی مبینہ طور پر کارپوریٹ نواز اور مزدور مخالف پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

یہ ہڑتال دس مرکزی مزدور یونینوں، کسان تنظیموں اور دیہی کارکنان کے اتحاد پر مبنی پلیٹ فارم کی جانب سے دی گئی ہے۔ احتجاج میں رسمی اور غیر رسمی دونوں شعبوں سے بڑے پیمانے پر شمولیت کی توقع ہے، خاص طور پر دیہی بھارت سے۔

جن شعبوں پر اس ہڑتال کا اثر پڑ سکتا ہے ان میں بینکاری، کوئلہ، ڈاک خدمات، ریاستی ٹرانسپورٹ، عوامی شعبے کی صنعتیں، اور مختلف سرکاری محکمے شامل ہیں۔ این ایم ڈی سی اور دیگر معدنیات و اسٹیل سے وابستہ سرکاری اداروں کے ملازمین بھی ہڑتال میں شامل ہوں گے۔

ہڑتال میں شامل مزدور یونینوں میں INTUC، AITUC، HMS، CITU، AIUTUC، TUCC، SEWA، AICCTU، LPF، اور UTUC شامل ہیں۔ ہند مزدور سبھا کے رہنما ہربھجن سنگھ سدھو نے کہا کہ مختلف صنعتوں اور خدماتی شعبوں میں زبردست شرکت کی امید ہے۔

اگرچہ بینکنگ یونینز کی جانب سے الگ ہڑتال کی کال نہیں دی گئی ہے، مگر منتظمین کا کہنا ہے کہ عوامی شعبے اور کوآپریٹیو بینکوں کے ملازمین بھی اس احتجاج میں شامل ہوں گے۔ اس سے کئی علاقوں میں بینک شاخوں کی کارکردگی، چیک کلیئرنس، اور کسٹمر سروسز متاثر ہو سکتی ہیں۔

تنظیموں نے اس ہڑتال کو محض ایک احتجاجی اقدام نہیں بلکہ ایک عوامی مزاحمت کی علامت قرار دیا ہے، جو حکومت پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنے گی تاکہ محنت کش طبقے کے مفادات کو محفوظ رکھا جا سکے۔