Read in English  
       
Drug Control

حیدرآباد ۔ کانگریس کے سینئر رہنما ارحم عادل نے منشیات کے خلاف سخت اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں اور معاشرے کے تحفظ کے لیے یہ ناگزیر ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی جانب سے جاری کریک ڈاؤن کو سراہتے ہوئے اسے بروقت اور ضروری اقدام قرار دیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے باعث جرائم کی نوعیت پیچیدہ ہو گئی ہے، جس کے لیے مؤثر حکمت عملی ضروری ہے۔

پس منظر کے طور پر انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں منشیات کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے نتیجے میں طلبہ کی صلاحیتیں اور مستقبل متاثر ہو رہے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے حکومت کی جانب سے کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ کو سراہا، جو نوجوانوں کو نقصان دہ عادات سے دور رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سخت نفاذ کے ساتھ ساتھ احتیاطی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ لہٰذا انہوں نے پولیس کو مشورہ دیا کہ نشے کے خلاف خصوصی چیک پوسٹس قائم کی جائیں، جیسا کہ نشے میں ڈرائیونگ کے خلاف مہم میں کیا جاتا ہے۔ مزید برآں انہوں نے بھاری جرمانوں اور قانونی کارروائی کی بھی تجویز دی۔

نفاذ اور روک تھام کی حکمت عملی | Drug Control

مزید یہ کہ ارحم عادل نے کہا کہ پولیس کو منشیات کی جانچ کے آلات وسیع پیمانے پر فراہم کیے جائیں تاکہ مؤثر کارروائی ممکن ہو سکے۔ اسی دوران انہوں نے پنجاب کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ تلنگانہ کو ایسے بحران سے بچانا ضروری ہے۔ لہٰذا انہوں نے وزیر اعلیٰ کے واضح مؤقف کو مضبوط قیادت کی علامت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ملک کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ منفی عادات ملک کے مستقبل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ مزید برآں انہوں نے نظم و ضبط، فٹنس اور کھیلوں کو مثبت متبادل کے طور پر پیش کیا۔

کھیل، نوجوان اور سماجی ترقی | Drug Control

مزید یہ کہ ارحم عادل نے حیدرآباد کے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہر کبھی بھارتی فٹبال کا مرکز رہا ہے۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ 1956 اولمپکس میں شہر کے 7 کھلاڑیوں نے ملک کی نمائندگی کی تھی۔ لہٰذا انہوں نے فٹبال کو دوبارہ فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے نوجوانوں کو کھیلوں میں شامل کرنے کے اقدامات کا بھی خیرمقدم کیا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ اس سے ہر طبقے کی صلاحیتیں سامنے آئیں گی اور کھیلوں کا نظام مضبوط ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بڑی آبادی کے باوجود بھارت عالمی کھیلوں میں پیچھے ہے، جس کے لیے بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔ لہٰذا انہوں نے ینگ انڈیا اسپورٹس یونیورسٹی کے قیام کے منصوبے کو سراہا اور کہا کہ اس میں کھلاڑیوں اور صنعتکاروں کی شمولیت مثبت نتائج دے گی۔

مزید یہ کہ انہوں نے کھیلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں جیسے نکہت زرین، محمد سراج اور دیپتی جیونجی کو دیے گئے انعامات کو سراہا۔ اسی دوران انہوں نے وزیر اعلیٰ کی ذاتی دلچسپی کو بھی اہم قرار دیا، جو نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے۔

اختتامیہ طور پر انہوں نے کہا کہ سخت قانون نافذ کرنے اور کھیلوں کے فروغ کا مشترکہ ماڈل ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔ مزید برآں انہوں نے زور دیا کہ یہی حکمت عملی نوجوانوں کو مثبت سمت میں لے جا سکتی ہے اور ریاست کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔