Wildlife Conservation

حیدرآباد:۔ حیدرآباد کے نہرو زولوجیکل پارک میں گزشتہ ایک سال کے دوران 90 سے زائد جانوروں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے جنگلی حیات کے تحفظ اور سائنسی افزائش نسل کے پروگراموں کو نمایاں تقویت ملی ہے۔ مزید برآں حالیہ پیدائشوں میں 6 شیر کے بچے شامل ہیں، جو اس وقت چڑیا گھر کی نمایاں توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

چڑیا گھر کے حکام کے مطابق گزشتہ سال اپریل سے اب تک مختلف انواع میں کامیاب افزائش نسل ریکارڈ کی گئی ہے، جو جنگلی حیات کے تحفظ اور سائنسی بنیادوں پر جانوروں کی دیکھ بھال کے مسلسل اقدامات کا نتیجہ ہے۔ اسی دوران 3 افریقی شیر کے بچے اور 3 ایشیائی شیر کے بچے پیدا ہوئے ہیں، جن کی ماہر ویٹرنری ڈاکٹروں کی نگرانی میں مسلسل دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ چنانچہ چڑیا گھر میں شیروں کی مجموعی تعداد 17 سے بڑھ کر 23 ہو گئی ہے، جن میں 5 افریقی اور 18 ایشیائی شیر شامل ہیں۔

شیروں اور بنگال ٹائیگروں کی تعداد میں اضافہ | Wildlife Conservation

اسی عرصے کے دوران 6 بنگال ٹائیگر کے بچے بھی پیدا ہوئے، جن میں 3 سفید ٹائیگر اور 3 زرد بنگال ٹائیگر شامل ہیں۔ نتیجتاً چڑیا گھر میں بنگال ٹائیگروں کی تعداد 10 جبکہ سفید ٹائیگروں کی تعداد بھی 10 ہو گئی ہے۔

جینیاتی تنوع برقرار رکھنے کے لیے چڑیا گھر کی انتظامیہ ملک کے دیگر زولوجیکل پارکس کے ساتھ شیروں کے تبادلے کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ مزید برآں حکام کا کہنا ہے کہ اس مربوط افزائشی پروگرام نے بڑی بلیوں کی صحت مند افزائش نسل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ سال سے اب تک 18 سے زائد ماؤس ڈیئر کے بچے، 8 بلیک بک اور 2 ہاگ ڈیئر کے بچے بھی پیدا ہوئے ہیں۔ گزشتہ 3 ماہ کے دوران 4 شتر مرغ کے بچے، 3 لومڑی کے بچے، 2 گولڈن فیزنٹ کے بچے، ایک چوسنگھا کا بچہ اور ایک سامبر ہرن کا بچہ بھی چڑیا گھر میں پیدا ہوا ہے۔

سائنسی افزائش نسل کو قومی سطح پر سراہا گیا | Wildlife Conservation

چڑیا گھر کی کیوریٹر جے وسنتھا نے کہا کہ حیدرآباد چڑیا گھر نے معدومیت کے خطرے سے دوچار ماؤس ڈیئر کے تحفظ میں قومی سطح پر نمایاں شناخت حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2010 سے اب تک یہاں 500 سے زائد ماؤس ڈیئر کی افزائش کی جا چکی ہے، جنہیں تحفظ کے مقصد سے امرآباد اور کاوال ٹائیگر ریزرو سمیت مختلف محفوظ علاقوں کو فراہم کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سائنسی افزائش نسل، مسلسل نگہداشت اور ماہرین کی نگرانی نے مختلف انواع میں کامیاب افزائش کو ممکن بنایا ہے، جس سے چڑیا گھر کے تحفظاتی پروگرام مزید مضبوط ہوئے ہیں۔