Bullet Train

حیدرآباد:۔ حیدرآباد کو چنئی اور بنگلورو سے جوڑنے والے مجوزہ بلیٹ ٹرین منصوبوں کے لیے زمینی سروے کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ حکام نے مجوزہ تیز رفتار ریل راہداریوں کی سیدھ طے کرنے کے لیے رنگاریڈی ضلع کے مختلف علاقوں میں نشانات لگانے کا کام شروع کر دیا ہے، جبکہ سروے کا دائرہ نلگنڈہ اور وقارآباد اضلاع تک بڑھایا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق گزشتہ 10 دنوں سے سروے ٹیمیں مختلف مقامات پر مجوزہ راستوں کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ مزید برآں حیدرآباد-چنئی راہداری شمش آباد، محبوب نگر، کندکور اور یاچارم منڈل سے گزرتے ہوئے نلگنڈہ ضلع کے نامپلی منڈل میں داخل ہوگی، جبکہ حیدرآباد-بنگلورو راہداری شمش آباد اور شباد منڈل سے گزرے گی۔

مجوزہ راستوں کی نشاندہی کا عمل تیز | Bullet Train

سروے ٹیموں نے زرعی اراضی اور دیگر مقامات پر سرخ اور سفید رنگ کے نشانات لگائے ہیں تاکہ مجوزہ راستے، سروے پوائنٹس اور ممکنہ اراضی حصول کے علاقوں کی درست نشاندہی کی جا سکے۔ اسی دوران یاچارم منڈل کے کرمڈا، میڈی پلی، مانکیس گوڑم، تکللا پلی، چنتا پٹلہ، نلاویلی، منڈانہ اور گوریلی دیہات میں نشاندہی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔

قبل ازیں متعلقہ حکام نے مجوزہ تیز رفتار ریل راہداریوں کے لیے فضائی سروے بھی انجام دیا تھا، جس کے بعد زمینی سروے میں تیزی لائی گئی۔ چنانچہ یہ مرحلہ مجوزہ راستوں کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اسٹیشنوں اور اراضی کے تعین میں مدد ملے گی | Bullet Train

حکام کا کہنا ہے کہ زمینی سروے مکمل ہونے کے بعد دونوں راہداریوں کی حتمی سیدھ، مجوزہ ریلوے اسٹیشنوں کے مقامات اور اراضی حصول کی ضروریات کے بارے میں واضح تصویر سامنے آئے گی۔ اس کے علاوہ سروے کی رپورٹ آئندہ منصوبہ بندی اور تعمیراتی مراحل کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔