Counterfeit Currency Racket

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے دیورپولا منڈل میں ایک گھر سے چلائے جا رہے جعلی کرنسی کے مبینہ نیٹ ورک کا پولیس نے پردہ فاش کرتے ہوئے 4 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق چھاپے کے دوران جعلی ₹500 نوٹوں کی پرنٹنگ سے متعلق سامان، نقد رقم، موبائل فون اور ایک کار برآمد کی گئی، جس کے بعد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔

پولیس کو مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ دیورپولا منڈل ہیڈکوارٹر میں چنتا سدرشن کے گھر پر جعلی نوٹ چھاپے جا رہے ہیں۔ اس اطلاع کے بعد سب انسپکٹر سروجن کمار نے ایک خصوصی پولیس ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچ کر گھر کی تلاشی لی، جہاں سے مبینہ طور پر جعلی کرنسی کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان ملا۔

اس کارروائی میں جگتیال ضلع کے سید رسول، دیورپولا منڈل کے کداویندی گاؤں کے باشی پاکا انجیا، مکان مالک چنتا سدرشن اور گنڈالا منڈل کے بندا کوتہ پلی گاؤں کے گوپال داس لکشمیا کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے چاروں ملزمان کو حراست میں لینے کے بعد ان کے کردار، باہمی روابط اور جعلی نوٹوں کی تیاری و گردش کے ممکنہ دائرۂ کار کی جانچ شروع کر دی ہے۔

چھاپے میں پرنٹنگ مشین، جعلی نوٹ اور نقدی برآمد | Counterfeit Currency Racket

تلاشی کے دوران پولیس نے ایک پرنٹر، جعلی ₹500 نوٹوں کی یک طرفہ چھپائی والی 150 شیٹس، کالے کاغذ کے 8 بنڈل، ایک بریزا کار، ₹85,000 نقد رقم اور 4 موبائل فون ضبط کیے۔ حکام کے مطابق ہر شیٹ پر ₹500 کے 4 نوٹوں کی تصاویر موجود تھیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کارروائی منظم انداز میں کی جا رہی تھی اور اس کے لیے باقاعدہ تیاری کی گئی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ ضبط شدہ جعلی نوٹوں کی مجموعی ظاہری مالیت تقریباً ₹3 لاکھ بنتی ہے۔ اگرچہ یہ نوٹ مکمل طور پر گردش میں لانے کے مرحلے تک پہنچے تھے یا نہیں، اس کی مزید جانچ کی جا رہی ہے، تاہم برآمد شدہ مواد نے اس شبہے کو مضبوط کیا ہے کہ معاملہ محض تجرباتی پرنٹنگ تک محدود نہیں تھا۔

حکام کے مطابق برآمد ہونے والے موبائل فونز، نقدی اور گاڑی بھی تفتیش میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے ملزمان کے رابطوں، نقل و حرکت اور ممکنہ خریداروں یا معاونین کے بارے میں معلومات حاصل ہونے کا امکان ہے۔ اسی لیے پولیس اب اس معاملے کو صرف ایک گھر تک محدود واقعہ کے بجائے ایک وسیع تر نیٹ ورک کے زاویے سے بھی دیکھ رہی ہے۔

ملزمان کے خلاف مقدمہ، ریمانڈ کی کارروائی شروع | Counterfeit Currency Racket

پولیس نے چاروں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد انہیں وردھناپیٹ سرکل انسپکٹر سرینواس راو کے سامنے پیش کیا، جہاں سے ریمانڈ کی کارروائی شروع کی گئی۔ اب تفتیشی حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا جعلی نوٹ پہلے بھی گردش میں ڈالے گئے تھے، اس کام میں مزید افراد شامل تھے یا یہ گروہ کسی بڑے رابطہ نیٹ ورک کا حصہ تھا۔

پولیس حکام نے خبردار کیا کہ جعلی کرنسی سے متعلق جرائم صرف مالی بدعنوانی کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کی سرگرمیاں مالیاتی نظام پر عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہیں، بازار میں غیر یقینی پیدا کرتی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اضافی چیلنج کھڑے کرتی ہیں۔

اسی لیے پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں اور اگر مشتبہ کرنسی یا مشکوک لین دین سے متعلق کوئی اطلاع ہو تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ اسی نوعیت کے جرائم میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔