Bonalu Festival Arrangements

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے بونالو تہوار کے انتظامات کے لیے ₹20 کروڑ منظور کرتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڑچل-ملکاجگری اضلاع میں تقریبات کو منظم، محفوظ اور سہل انداز میں منعقد کرانے کے لیے باہمی تال میل کے ساتھ کام کیا جائے۔ اس سلسلے میں ٹرانسپورٹ اور بی سی ویلفیئر کے وزیر پونم پربھاکر نے جوبلی ہلز میں ڈاکٹر مری چنا ریڈی ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جہاں بونالو کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وقف اوقاف و مذہبی ادارہ جات سے متعلق محکمے کے تحت 16 جولائی سے 13 اگست تک جاری رہنے والے بونالو تہوار کی تیاریوں پر غور کیا گیا۔ وزیر نے کہا کہ بونالو تلنگانہ کی ثقافت، روایات، عقیدت اور روحانی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے اس کی انتظامی تیاریوں کو محض ایک تہوار کی رسمی کارروائی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

پونم پربھاکر نے کہا کہ آشادا مہینے کے دوران ریاست بھر سے لاکھوں عقیدت مند حیدرآباد کا رخ کرتے ہیں، جس کے باعث اس بار بھی بڑی تعداد میں زائرین کی آمد متوقع ہے۔ اسی لیے انہوں نے تمام محکموں کو واضح کیا کہ تہوار کے دوران معمولی انتظامی کوتاہی بھی عوامی مشکلات، ٹریفک دباؤ اور سکیورٹی خدشات کا باعث بن سکتی ہے، لہٰذا پیشگی منصوبہ بندی بنیادی شرط ہے۔

عقیدت مندوں کی سہولت کو مرکزیت دینے کی ہدایت | Bonalu Festival Arrangements

وزیر نے وقف و مذہبی ادارہ جات کے محکمے کو ہدایت دی کہ ہر عقیدت مند کو بلا رکاوٹ اور آسان درشن کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد انتظامیہ کو بونالو، گنیش تہوار، رمضان اور محرم جیسے بڑے مذہبی اجتماعات کے انتظام کا وسیع تجربہ حاصل ہے، اس لیے اس تجربے کو اس بار بھی بھرپور طور پر بروئے کار لایا جانا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وزیراعلیٰ، وزرا، عوامی نمائندے، سینئر افسران اور لاکھوں عقیدت مند مختلف پروگراموں میں شرکت کریں گے، لہٰذا ہر محکمہ اپنی ذمہ داری پوری سنجیدگی اور مؤثریت کے ساتھ ادا کرے۔ ان کے مطابق اس بار صرف روایتی انتظامات کافی نہیں ہوں گے بلکہ بھیڑ، آمد و رفت، سکیورٹی اور بنیادی سہولتوں کو ایک مربوط فریم ورک کے تحت دیکھنا ہوگا۔

پونم پربھاکر نے کہا کہ حکومت مسلسل مندروں کے لیے مالی امداد میں اضافہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق 2025 میں 3,026 مندروں تک مالی معاونت پہنچائی گئی، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 1,253 تھی اور 2022 و 2023 میں 1,073، 1,073 مندروں کو امداد دی گئی تھی۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ اہل مندروں کی نشاندہی شفاف انداز میں کی جائے اور اس عمل میں عقیدت مندوں کی تعداد، مقامی ضرورتوں اور ہر مندر کی عملی ضروریات کو پیش نظر رکھا جائے۔

ٹرانسپورٹ، سکیورٹی اور شہری سہولتوں کا جامع خاکہ | Bonalu Festival Arrangements

وزیر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ بڑے مندروں میں بلاتعطل برقی سپلائی، تزئینی روشنی، پھولوں کی آرائش، پینے کے پانی، پرساد کی تقسیم، صفائی ستھرائی اور قطاروں کے نظم و نسق کو یقینی بنایا جائے۔ ان کے مطابق بونالو کے دوران زائرین کی بڑی تعداد کے پیش نظر بنیادی سہولتوں میں کسی قسم کی کمی ناقابل قبول ہوگی۔

مزید برآں انہوں نے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے، میڈیکل کیمپ قائم کرنے، ہنگامی ردعمل کے نظام کو مضبوط بنانے اور جامع فائر سیفٹی انتظامات کرنے کی ہدایت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اور ایمرجنسی ردعمل کو الگ الگ خانوں میں نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ انہیں تہوار کے مجموعی انتظامی ڈھانچے کا لازمی حصہ سمجھا جانا چاہیے۔

پونم پربھاکر نے ٹی جی آر ٹی سی سے بھی کہا کہ خواتین کے مفت بس سفر اسکیم کے تحت مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے خصوصی بس خدمات چلائی جائیں۔ ان کے مطابق تہوار کے دوران مختلف مندروں تک پہنچنے والے عقیدت مندوں کے لیے مناسب ٹرانسپورٹ انتظامات نہ ہوں تو اس کا دباؤ سڑکوں، نجی گاڑیوں اور مقامی ٹریفک پر بڑھ جائے گا۔

پولیس، ٹریفک، انٹلی جنس، جی ایچ ایم سی اور دیگر شہری محکموں کو ہدایت دی گئی کہ گولکنڈہ، بلکمپیٹ، اجینی مہانکالی، سبزی منڈی اور اکنا مدنا مندروں سمیت بڑے مذہبی مراکز کے لیے مربوط ہجوم کنٹرول، ٹریفک ریگولیشن اور سکیورٹی منصوبے تیار کیے جائیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بونالو کو صرف مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایک بڑے شہری اور انتظامی ایونٹ کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔

گولکنڈہ قلعہ آنے والے عقیدت مندوں کو مفت داخلہ فراہم کرنے کا سلسلہ | Bonalu Festival Arrangements

وزیر نے خواتین عقیدت مندوں اور خواتین عملے کی سلامتی پر خصوصی زور دیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے افسران سے کہا کہ پیشگی منصوبہ بندی کے ذریعے عام شہریوں کو کم سے کم تکلیف ہو، کیونکہ تہوار کے دوران ٹریفک تبدیلیاں، ہجوم اور راستوں کی بندش عام زندگی پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔

انہوں نے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کو بھی ہدایت دی کہ بونالو کی تاریخ، مذہبی اہمیت، تقریبات کے شیڈول، ٹریفک ڈائیورژن اور دستیاب سہولتوں سے متعلق وسیع پیمانے پر تشہیر کی جائے۔ اس مقصد کے لیے پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو استعمال کرنے پر زور دیا گیا تاکہ عقیدت مند پہلے سے آگاہی حاصل کر سکیں اور انتظامیہ پر اچانک دباؤ کم ہو۔

پونم پربھاکر نے آثار قدیمہ کے حکام سے یہ درخواست بھی کی کہ آشادا مہینے کے دوران تاریخی بونالو تقریبات کے لیے گولکنڈہ قلعہ آنے والے عقیدت مندوں کو مفت داخلہ فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ اس مطالبے سے واضح ہے کہ حکومت تہوار کی مذہبی نوعیت کے ساتھ اس کے تاریخی اور ثقافتی پہلو کو بھی نمایاں اہمیت دینا چاہتی ہے۔

یوں یہ جائزہ اجلاس صرف ایک تہوار کی تیاریوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں مالی امداد، درشن سہولت، سکیورٹی، خواتین کے تحفظ، خصوصی بس سروس، شہری صفائی، آگاہی مہم اور تاریخی مقامات تک رسائی جیسے متعدد پہلوؤں کو یکجا کرتے ہوئے بونالو کے لیے ایک ہمہ جہت انتظامی منصوبہ سامنے لایا گیا۔ اسی لیے تلنگانہ حکومت اب اس بات پر زور دے رہی ہے کہ بونالو کی تقریبات ریاستی ثقافت اور عوامی سہولت دونوں کے تقاضوں کے مطابق منظم انداز میں منعقد ہوں۔