Tungabhadra Water Share

حیدرآباد ۔ وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے مرکز سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تلنگانہ کو تنگبھدرا میں اس کا جائز آبی حصہ دلایا جائے اور ساتھ ہی دریا کے پانی کے منصفانہ استعمال کے لیے تینوں متعلقہ ریاستوں کے درمیان مؤثر تال میل کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بات جلاسودھا میں تنگبھدرا پروجیکٹ، راجولی بنڈہ ڈائیورژن اسکیم اور بین الریاستی آبی تنازعات پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں کہی۔

اجلاس میں آبپاشی کے وزیر این اتم کمار ریڈی، ایکسائز کے وزیر جوپلی کرشنا راو، رکن پارلیمان ملو روی، حکومتی مشیروں اور آبپاشی محکمے کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں تنگبھدرا ڈیم، راجولی بنڈہ ڈائیورژن اسکیم اور تلنگانہ کے حصے کے پانی سے متعلق کئی اہم نکات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ تنگبھدرا ڈیم اور دریا کے بہاؤ سے تلنگانہ کا حق 15.9 ٹی ایم سی پانی پر بنتا ہے، مگر ریاست کو اس وقت صرف 5 سے 6 ٹی ایم سی پانی ہی مل رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ فرق نہ صرف تلنگانہ کے آبی حقوق کا مسئلہ ہے بلکہ اس کا براہ راست اثر آبپاشی، ذخیرہ آب اور مقامی زرعی معیشت پر بھی پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ راجولی بنڈہ ڈائیورژن اسکیم کے ذریعے جوگولامبا گدوال ضلع کے تقریباً 75 دیہات میں 83,987 ایکڑ اراضی کو آبپاشی کی سہولت ملنے کی توقع ہے۔ اسی لیے اس اسکیم کی کارکردگی، پانی کی دستیابی اور ڈھانچے کی مضبوطی کو ریاستی مفاد سے جڑا ہوا معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الریاستی رابطے اور بورڈ کو مضبوط بنانے پر زور | Tungabhadra Water Share

اے ریونت ریڈی نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ سنٹرل واٹر کمیشن کے تحت تنگبھدرا بورڈ کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ تلنگانہ، آندھرا پردیش اور کرناٹک کے درمیان رابطہ بہتر ہو اور پانی کے استعمال میں توازن پیدا کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اگر ادارہ جاتی سطح پر مضبوط ہم آہنگی نہ ہو تو دریا کے پانی کی تقسیم کے معاملات مسلسل تنازع کا سبب بنتے رہیں گے۔

انہوں نے راجولی بنڈہ ڈائیورژن اسکیم کے بیراج کی خستہ حالت پر بھی تشویش ظاہر کی اور افسران کو ہدایت دی کہ فوری نوعیت کے حفاظتی کاموں کی نشاندہی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس ڈھانچے کی مضبوطی اور بحالی پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو نہ صرف پانی کی منتقلی متاثر ہوگی بلکہ اسکیم کے تحت آبپاشی کی صلاحیت بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔

اجلاس میں افسران نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ تلنگانہ حکومت راجولی بنڈہ ڈائیورژن کینال کی جدیدکاری کے لیے پہلے ہی ₹59 کروڑ جمع کرا چکی ہے۔ تاہم پیکیج 1 اور پیکیج 2 کے تحت کام اب تک شروع نہیں ہو سکا، جبکہ پیکیج 3 اور پیکیج 4 مکمل کیے جا چکے ہیں۔ اس صورت حال پر وزیراعلیٰ نے ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ مالی ذمہ داری پوری ہونے کے باوجود کام کا رکا رہنا قابل قبول نہیں۔

اسی تناظر میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو مرکزی وزیر جل شکتی کی آئندہ میٹنگ میں اٹھایا جائے گا، جس میں تینوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ شرکت کریں گے۔ ان کے مطابق یہ فورم تلنگانہ کے حق، رکا ہوا کام اور بین الریاستی تعاون کے مسائل کو مؤثر انداز میں سامنے رکھنے کے لیے اہم موقع ہوگا۔

گاد، ذخیرہ آب اور لفٹ اسکیم کی افادیت کا جائزہ | Tungabhadra Water Share

انجینئروں نے اجلاس کو بتایا کہ راجولی بنڈہ ڈائیورژن اسکیم کے تلنگانہ حصے میں بھاری مقدار میں گاد جمع ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے پانی موڑنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ اس رکاوٹ کے باعث نہ صرف موجودہ آبی بہاؤ کم ہو رہا ہے بلکہ اسکیم کی اصل افادیت بھی محدود ہو رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ 2004 میں ایک ماہر کمیٹی نے گاد نکالنے سے متعلق سفارشات پیش کی تھیں، مگر ان پر آج تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاخیر اب محض انتظامی غفلت کا معاملہ نہیں رہی بلکہ اس نے ریاست کے پانی کے استعمال کی مجموعی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔

اسی لیے انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ مرکز سے فوری طور پر گاد نکالنے کا کام شروع کرنے کی درخواست کی جائے اور اس مقصد کے لیے کرناٹک کے تعاون کی بھی کوشش کی جائے، کیونکہ گاد سے متاثرہ علاقہ اسی ریاست کے حدود میں آتا ہے۔ ان کے مطابق بین الریاستی تعاون کے بغیر اس مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں ہوگا۔

 منصوبے کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جائے | Tungabhadra Water Share

ریونت ریڈی نے آبپاشی محکمے کو یہ بھی ہدایت دی کہ 2004 کی ماہر کمیٹی کی سفارشات اور موجودہ زمینی صورت حال کا تقابلی تفصیلی جائزہ تیار کیا جائے۔ اس رپورٹ کے ذریعے یہ واضح کیا جائے گا کہ کن سفارشات پر عمل نہیں ہوا، کس وجہ سے تاخیر ہوئی اور اب کن اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے تنگبھدرا لفٹ اریگیشن اسکیم کے تحت پانی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے امکانات بھی تلاش کرنے کو کہا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ ملامکنتہ بیلنسنگ ریزروائر کی ذخیرہ صلاحیت بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے اور تھمّلا سے پانی کے بہتر استعمال کے لیے منصوبے کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جائے۔

یوں اجلاس میں صرف تلنگانہ کے آبی حصے کا سوال ہی زیر بحث نہیں آیا بلکہ راجولی بنڈہ ڈائیورژن اسکیم کی مرمت، گاد نکالنے، ذخیرہ آب بڑھانے، لفٹ اریگیشن کے بہتر استعمال اور مرکز کے کردار جیسے تمام پہلوؤں کو ایک مربوط آبی حکمت عملی کے طور پر دیکھا گیا۔ اسی لیے حکومت اب اس مسئلے کو تکنیکی، انتظامی اور بین الریاستی سطح پر ایک ساتھ آگے بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ تلنگانہ کو تنگبھدرا کے پانی میں اس کا مکمل اور مؤثر حق مل سکے۔