NIMS Tender Controversy

حیدرآباد ۔ نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (نمس) میں لیبر کنٹریکٹ کی منظوری کے عمل پر بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ سابق کنٹریکٹرس اور اسپتال سے وابستہ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چنئی کی ایک کمپنی کو مطلوبہ اہلیت پوری نہ کرنے کے باوجود ٹینڈر دے دیا گیا۔

نمس ملک کے اہم سرکاری طبی اداروں میں شمار ہوتا ہے جہاں آروگیہ شری، ای ایچ ایس، جے ایچ ایس اور سی ایم آر ایف جیسی اسکیموں کے تحت ہزاروں مریضوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مریضوں کی نگہداشت اور لیبر خدمات سے متعلق ٹینڈر کے عمل پر اٹھنے والے سوالات نے شفافیت کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

الزامات کے مطابق مذکورہ لیبر کنٹریکٹ کے لیے گزشتہ سال جولائی میں ٹینڈرز طلب کیے گئے تھے۔ ٹینڈر شرائط میں حصہ لینے والی کمپنیوں کے لیے یہ شرط رکھی گئی تھی کہ وہ گزشتہ 3 برس کے دوران کم از کم 500 بستروں والے کسی سرکاری سپر اسپیشلٹی اسپتال میں 500 یا اس سے زیادہ مریض نگہداشت عملے کے انتظام کا تجربہ رکھتی ہوں۔

سابق کنٹریکٹرس کا الزام ہے کہ منتخب کی گئی چنئی کی کمپنی مطلوبہ تجربے اور اہلیت سے محروم تھی۔ ان کے مطابق کمپنی بنیادی طور پر ہاؤس کیپنگ، پراپرٹی مینجمنٹ، عمارتوں کی دیکھ بھال اور سکیورٹی خدمات سے متعلق کام کرتی رہی ہے۔

اہلیت اور دستاویزات پر اعتراضات | NIMS Tender Controversy

الزامات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمپنی کی رجسٹریشن دستاویزات میں مریضوں کی نگہداشت یا طبی معاونتی خدمات اس کے بنیادی مقاصد میں شامل نہیں تھیں۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس کے باوجود کمپنی کو ٹینڈر کے عمل میں آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی۔

تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب یہ دعویٰ سامنے آیا کہ کمپنی نے جو تجرباتی اسناد جمع کرائیں وہ بھی ٹینڈر کی شرائط سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ ذرائع کے مطابق ایک سرٹیفکیٹ پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے بجائے ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر کے دستخط موجود تھے، حالانکہ قواعد کے مطابق مطلوبہ توثیق مختلف نوعیت کی تھی۔

مزید برآں، بعض ناقدین نے الزام عائد کیا ہے کہ تکنیکی جانچ کے مرحلے میں کمپنی کو غیر معمولی طور پر زیادہ نمبر دیے گئے جس کے نتیجے میں وہ کامیاب بولی دہندہ کے طور پر سامنے آئی۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی کمپنی کے حوالے سے اس سے قبل حیدرآباد کے ایک اور سرکاری اسپتال میں بھی اسی نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے تھے۔

سینئر حکام کے کردار پر بھی سوالات | NIMS Tender Controversy

چند ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپتال کے بعض سینئر عہدیداروں نے ٹینڈر کی منظوری میں کردار ادا کیا۔ مزید سنگین الزامات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس پورے عمل کے دوران بھاری مالی لین دین ہوا۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرنے والے ایک ڈاکٹر نے الزام لگایا کہ تقریباً 1.50 کروڑ روپے کی مبینہ ڈیل کے ذریعے کمپنی کو کنٹریکٹ دلانے کی راہ ہموار کی گئی۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

دوسری جانب خبر کی اشاعت تک نمس انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ وضاحت یا ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ چنانچہ ان دعوؤں کی حقیقت اور کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی یا بدعنوانی کے تعین کا انحصار کسی سرکاری تحقیقات یا انکوائری کے نتائج پر ہوگا۔